اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نے ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے سے متعلق روسی صدر کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کی جانب سے یہ تجویز ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے ایک حصے کے طور پر پیش کی گئی تھی، جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور ایران کے جوہری مواد کو ایک محفوظ مقام پر منتقل کرنا تھا۔رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر امریکا اور روس کے صدور کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا۔ اس گفتگو کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تجویز دی کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کو روس منتقل کر دیا جائے تاکہ اس معاملے پر عالمی خدشات کم کیے جا سکیں اور جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام سے حاصل ہونے والا افزودہ یورینیم روس کے محفوظ جوہری مراکز میں منتقل کیا جانا تھا، جس کے بدلے میں ایران کو بعض سفارتی اور اقتصادی رعایتیں دینے پر بھی بات چیت زیر غور تھی۔تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی ایسے انتظام پر رضامند نہیں ہو سکتا جس سے مستقبل میں ایران دوبارہ جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ جائے۔
دوسری جانب روسی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پیشکش کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور ایران کے جوہری مواد کو عالمی نگرانی میں لانا تھا تاکہ ممکنہ جنگ بندی معاہدے کو عملی شکل دی جا سکے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے افزودہ یورینیم کی منتقلی کا منصوبہ قبول کر لیا جاتا تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کو کم کرنے کے لیے ایک اہم سفارتی قدم ثابت ہو سکتا تھا۔ تاہم امریکا کی جانب سے اس تجویز کو مسترد کیے جانے کے بعد خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔