اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیو ز ) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ
اگر کینیڈا اپنی صوبائی اور علاقائی حدود کے درمیان موجود اندرونی تجارتی رکاوٹیں مکمل طور پر ختم کر دے تو ملک کی حقیقی مجموعی قومی پیداوار (ریئل جی ڈی پی) میں تقریباً 7 فیصد، یعنی 210 ارب ڈالر تک اضافہ ممکن ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے منگل کو جاری کی گئی اس رپورٹ کے مطابق کینیڈا کی 13 صوبائی اور علاقائی حکومتوں کے درمیان موجود ضابطہ جاتی رکاوٹیں قومی سطح پر اوسطاً 9 فیصد ٹیرف کے برابر اثر رکھتی ہیں۔ رپورٹ کے مصنفین میں آئی ایم ایف کے ماہرین فیڈریکو جے ڈیز اور یوان چن یانگ شامل ہیں، جبکہ یونیورسٹی آف کیلگری کے ماہرِ معاشیات ٹریور ٹومب نے بھی اس تحقیق میں تعاون کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سروسز سے متعلق شعبوں، جیسے صحت، تعلیم اور پیشہ ورانہ خدمات میں یہ تجارتی رکاوٹیں کہیں زیادہ شدید ہیں، جہاں یہ شرح 40 فیصد سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مختلف صوبوں میں پیشہ ورانہ نقل و حرکت اور لائسنسنگ کے سخت اور متفرق قوانین ہیں۔آئی ایم ایف کے مطابق یہ شرح زیادہ تر بین الاقوامی تجارتی معاہدوں میں ناقابلِ قبول سمجھی جاتی ہے۔ تقابل کے طور پر رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ نومبر 2025 میں امریکا کی جانب سے کینیڈا پر عائد اوسط ٹیرف کی شرح 5.9 فیصد تھی، جو اندرونی صوبائی رکاوٹوں کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اندرونی تجارتی رکاوٹوں کا سب سے زیادہ نقصان چھوٹے صوبوں اور شمالی علاقوں کو ہوتا ہے، کیونکہ ان علاقوں کی معیشتیں بڑے صوبوں کے مقابلے میں کم متنوع ہوتی ہیں اور وہ زیادہ انحصار بین الصوبائی تجارت پر کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں کینیڈا ایک متحد معیشت کے بجائے مختلف ضابطہ جاتی حصوں میں بٹا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق اٹلانٹک صوبے اندرونی تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ میں فی کارکن حقیقی جی ڈی پی میں تقریباً 40 فیصد تک بہتری ممکن ہے۔رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ اندرونی تجارتی رکاوٹیں نہ صرف معاشی طور پر مہنگی ہیں بلکہ جدید، خدمات پر مبنی معیشت کی ضروریات سے بھی مطابقت نہیں رکھتیں۔ ماہرین کے مطابق ان رکاوٹوں کا خاتمہ پیداواری صلاحیت بڑھانے، معاشی استحکام مضبوط کرنے اور جامع ترقی کے لیے ایک مؤثر اور کم لاگت ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔دوسری جانب بزنس کونسل آف البرٹا کی پالیسی ڈائریکٹر ایلیسیا پلاننچک کا کہنا ہے کہ صوبائی تجارتی رکاوٹوں کے باعث کینیڈا حقیقت میں ایک معیشت کے بجائے کئی الگ الگ معاشی اکائیوں پر مشتمل ہے۔ ان کے مطابق چھوٹے صوبے بین الصوبائی تجارت پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، اسی لیے وہاں رکاوٹوں کے خاتمے کے اثرات زیادہ نمایاں ہوں گے۔
پلاننچک نے کہا کہ مسئلہ صرف اشیا کی نقل و حمل تک محدود نہیں بلکہ افرادی قوت کی آزادانہ نقل و حرکت اور کاروباروں کی توسیع میں بھی بڑی رکاوٹیں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف صوبوں کے ہزاروں قوانین اور ضوابط کو ہم آہنگ کرنا ایک پیچیدہ اور سیاسی طور پر حساس عمل ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ امریکا کی جانب سے گزشتہ برس کینیڈا پر ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اندرونی تجارت کو فروغ دینے پر زیادہ توجہ دینا شروع کی۔ نومبر 2025 میں وفاقی حکومت، صوبوں اور علاقوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت خوراک اور الکحل کے علاوہ بیشتر اشیا پر بین الصوبائی تجارتی رکاوٹیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔تاہم رپورٹ کے مطابق سروسز کا شعبہ، جو اندرونی تجارتی اخراجات کا بڑا حصہ ہے اور جی ڈی پی میں متوقع اضافے کا تقریباً 80 فیصد بن سکتا ہے، اس معاہدے سے بڑی حد تک باہر رکھا گیا۔
آئی ایم ایف نے مالیات، ٹیلی کمیونیکیشن، ٹرانسپورٹ اور پیشہ ورانہ خدمات جیسے شعبوں کو خاص طور پر اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں اصلاحات پورے معاشی نظام پر مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق اب اصل ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ سیاسی عزم اور عملی اقدامات کے ذریعے اندرونی تجارتی رکاوٹوں کو کم کر کے کینیڈا کی معاشی صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لائیں۔