اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت کو اب بولڈ اور فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے، اور جو لوگ ایسے فیصلے نہیں کر سکتے انہیں اپنے عہدے چھوڑ دینے چاہئیں۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام “سینٹر اسٹیج” میں گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ حقیقت پسندی سے بات کرنے کی ضرورت ہے اور ہلکے پھلکے اقدامات سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی ممکن نہیں ہو گی۔ ان کے مطابق اس مسئلے کا حل یا تو سنجیدہ سیاسی ڈائیلاگ میں ہے یا پھر ملک بھر میں بھرپور مگر پرامن احتجاج کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈالنا ہوگا تاکہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی ممکن بنائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کو حکومت سے دو ٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بانی پی ٹی آئی کو بھٹو نہیں بنانا چاہتے، ہمیں وہ زندہ اور سلامت باہر چاہئیں۔
ایک سوال کے جواب میں علی محمد خان نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے خود انہیں سیاسی کمیٹی کا رکن بنایا تھا، تاہم موجودہ قیادت نے انہیں اس کمیٹی سے نکال دیا۔ اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ وہ نئی قیادت اور سیاسی کمیٹی کے اراکین کی حمایت جاری رکھیں گے۔
علی محمد خان نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کو کسی قسم کی علالت لاحق ہے تو انہیں ڈاکٹروں سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق ڈاکٹر فیصل سلطان یا شوکت خانم ہسپتال کی میڈیکل ٹیم کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا موقع ملنا چاہیے۔
انہوں نے شوکت خانم کے ڈاکٹروں کے ٹریک ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ڈاکٹرز ہمیشہ طبی امور تک محدود رہے ہیں اور انہوں نے کبھی سیاسی گفتگو نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان ڈاکٹروں کو ملاقات کی اجازت دے دی جائے تو تمام شکوک و شبہات ختم ہو سکتے ہیں۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ وہ ریلیف کی امید رکھتے ہیں اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی رسائی دی جانی چاہیے۔
چیف جسٹس سے سلمان اکرم راجا کی ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے۔ اگرچہ یہ ملاقات صبح کے وقت ہونی چاہیے تھی اور کچھ تاخیر ہوئی، تاہم ان کے بقول اچھی بات یہ ہے کہ ملاقات ہو گئی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد بانی پی ٹی آئی کی ڈاکٹروں سے ملاقات بھی ممکن ہو جائے گی۔