اردوورلڈ کینیڈا( ویب نیوز)کراچی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے باغ جناح میں جلسہ سکیورٹی کلیئرنس کے بعد منعقد کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ پارٹی نے جلسے کے لیے 25 لاکھ روپے کے پے آرڈرز جمع کرائے ہیں، جن میں 20 لاکھ روپے جلسے کی فیس اور 5 لاکھ روپے سکیورٹی ڈیپازٹ کے طور پر جمع کروائے گئے ہیں۔ اب پی ٹی آئی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تحریری اجازت نامے کے انتظار میں ہے تاکہ جلسہ قانونی اور محفوظ انداز میں منعقد ہو سکے۔
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے واضح کیا کہ سہیل آفریدی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں اور جلسہ بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی جماعت کی پرامن جدوجہد کو نہیں روکا جا سکتا، اور حکومت شہری آزادی اور جمہوری عمل کا احترام کرتی ہے۔ شہری علاقوں میں جلسوں اور اجتماعات کے دوران سکیورٹی کے انتظامات پر خاص توجہ دی جا رہی ہے تاکہ عوام کے معمولات متاثر نہ ہوں۔
سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو جلسے کے دوران فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے گی اور مکمل پروٹوکول مہیا کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی کوشش نہ کی جائے جس سے عوام کو تکلیف پہنچے یا قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سے ہمارے نظریاتی اختلافات ضرور ہیں، لیکن جمہوریت کا تقاضا ہے کہ اختلافات کو تحمل اور برداشت کے ساتھ حل کیا جائے۔
ادھر انتظامیہ کی جانب سے بھی کہا گیا ہے کہ جلسے کے دوران عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے عملے کی مکمل تعیناتی کی جائے گی۔ جلسہ سے قبل روٹس کی کلیئرنس، ہنگامی گاڑیوں کی رسائی اور ہجوم کنٹرول کے لیے پلان تیار کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
پی ٹی آئی نے اعلان کیا ہے کہ جلسے میں پارٹی کے مرکزی رہنما اور صوبائی قائدین بھی شریک ہوں گے اور عوام سے خطاب کریں گے۔ سکیورٹی کلیئرنس کے بعد جلسہ کراچی کے عوام کے لیے ایک اہم سیاسی تقریب ثابت ہو گا، جس میں شہری شرکت کے ساتھ ساتھ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی بھی اہم ہوگی۔ جلسے کی تاریخ اور وقت کی حتمی منظوری ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے تحریری اجازت نامے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔