اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کیوبیک کے ایک کورونر نے ایک جامع رپورٹ میں تجویز پیش کی ہے کہ صوبے اور شہر کو پیدل چلنے والوں کی حفاظت کے لیے مزید مضبوط اقدامات اختیار کرنے چاہئیں۔ یہ سفارشات ایک سات سالہ یوکرینی پناہ گزین لڑکی کی 2022 میں ہونے والی ہٹ اینڈ رن موت کے بعد سامنے آئی ہیں، جس نے پورے کیوبیک کو افسردہ کر دیا تھا۔
کورونر ایرک لیپین نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ حادثہ مکمل طور پر اتفاقی تھا، لیکن وہ ڈرائیور کی عدم توجہی اور چمکتی دھوپ سے پیدا ہونے والی کمزور حدِ نظر کا نتیجہ تھا۔ لیپین کے مطابق ڈرائیور نے چوراہے پر گاڑی پوری طرح نہیں روکی، اور سورج کی تیز روشنی نے اس کی نظر کو تقریباً مفلوج کر دیا۔ انہوں نے لکھا کہ ڈرائیور کو بچی نظر نہیں آئی اور نہ ہی بچی نے آنے والی گاڑی کو دیکھا۔ ان کے مطابق یہ ٹکر محض اس وجہ سے ہوئی کہ گاڑی پوری طرح روکی نہیں گئی اور سورج کی روشنی نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا۔
مارییا لیگینکووسکا نامی بچی اپنے بھائی اور بہن کے ساتھ 13 دسمبر 2022 کو اسکول جا رہی تھی جب ایک جیب گرینڈ چروکی نے اسے ٹکر مار دی۔ ڈرائیور موقعے سے فرار ہوگیا، تاہم چند گھنٹے بعد خود پولیس کے سامنے پیش ہوگیا۔ اس نے 2024 میں حادثے کے بعد نہ رکنے کا اعتراف کیا اور ایک سال کی گھر میں نظر بندی کی سزا پائی۔ مارییا کا خاندان 2022 میں روسی حملے سے بچ کر مونٹریال منتقل ہوا تھا، جبکہ بچی کے والد اینڈریئی لیگینکووسکی اس وقت یوکرین کی دفاعی فورسز میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے محاذ سے واپس آ کر بیٹی کو سپرد خاک کیا۔
یہ خبربھی پڑھیں :بی سی نے ڈاکٹر جتندر بیدوان کو نیا چیف کورونر نامزد کیا
لیپین کی رپورٹ میں اگرچہ بچی کا نام حذف کیا گیا ہے، لیکن یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اس کی موت نے صوبے بھر کے لوگوں کو جھنجھوڑ دیا اور شہروں میں بچوں کی حفاظت کے لیے مزید موثر اقدامات کا مطالبہ بڑھا۔ رپورٹ کے مطابق ڈرائیور نے چوراہے پر رفتار کم کی اور دونوں جانب دیکھا مگر مکمل طور پر نہیں رکا۔ اسے بچی نظر نہیں آئی، لیکن اسے ٹائر کے نیچے کچھ آنے کا احساس ہوا جس کے بعد وہ وہاں سے نکل گیا۔
کورونر نے کہا کہ چوراہوں پر پیدل چلنے والوں کی حفاظت بڑھانے کے لیے اسپیڈ بریکروں، بولارڈز اور سڑک کے کناروں کو چوڑا کرنے جیسے اقدامات سب سے زیادہ مؤثر ہیں، اور شہر کو چاہیے کہ جہاں ممکن ہو یہ تبدیلیاں جاری رکھے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سورج کی چمک سردیوں میں غیر معمولی طور پر شدید ہوتی ہے، اور کئی پولیس افسران اور عینی شاہدین نے بتایا کہ حادثے کی صبح وہ سڑک پر سورج کی روشنی سے بالکل اندھے ہو جاتے تھے۔ ان کے مطابق چوراہے کو اس وقت خطرناک نہیں سمجھا جاتا تھا، لیکن اگر سورج کی چکاچوند کو خطرے کا ایک باضابطہ معیار مانا گیا ہوتا تو ممکن ہے کہ وہاں پہلے سے حفاظتی اقدامات جیسے کراسنگ گارڈ تعینات کیے جاتے۔
لیپین نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی کہ ڈرائیور جی پی ایس کی ہدایت پر ایک ایسے رہائشی علاقے سے گزر رہا تھا جہاں وہ پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ یہ راستہ اسے جنوبی ساحل کے بڑے سرنگی راستے کی دو لینیں بند ہونے اور ٹریفک رش کے باعث دکھایا گیا تھا۔ کورونر نے تجویز کیا کہ صوبے کو بڑے تعمیراتی منصوبوں کا اعلان بہت پہلے کرنا چاہیے تاکہ شہری ٹریفک کے انتظامات بہتر بنائے جا سکیں اور ہجوم رہائشی علاقوں کی جانب نہ موڑا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے مشورہ دیا کہ حکومت جی پی ایس اور ٹریفک ایپس چلانے والی کمپنیوں کے ساتھ تعاون بڑھائے تاکہ یہ سسٹمز گاڑیوں کو ایسے گنجان علاقوں کی طرف راغب نہ کریں جہاں پیدل چلنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر کورونر نے زور دیا کہ سورج کی تیز روشنی کو چوراہوں کی خطرے کی درجہ بندی میں شامل کیا جانا چاہیے اور اسے ان معیارات کا حصہ بنایا جائے جن کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کہاں کراسنگ گارڈز تعینات کیے جائیں یا اضافی حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔