اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کیوبیک کےپریمیئر فرانسوا لیگو کے استعفے کے ایک دن بعد، صحت کے شعبے سے وابستہ کارکنوں نے صوبے کے صحت نظام پر ان کی کارکردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ڈاکٹروں اور نرسوں کا کہنا ہے کہ لیگو کی ناقص انتظامیہ کے باعث ایمرجنسی رومز میں غیر معمولی رش، عملے کی شدید کمی اور طبی کارکنوں کی تھکن میں اضافہ ہوا۔
فیملی ڈاکٹر مائیکل کیلن نے کہابدقسمتی سے، اس وقت ہمارا نظام اس وقت سے کہیں زیادہ خراب ہے جب لیگو پہلی بار اقتدار میں آئے تھے۔ ہمارے پاس فیملی ڈاکٹر کے بغیر مریضوں کی تعداد بڑھ چکی ہے۔ 2 ہزار سے زائد فیملی ڈاکٹروں کی کمی ہے، اور ڈیڑھ ملین سے زیادہ کیوبیک کے شہری ڈاکٹر کے بغیر ہیں۔”
کیلن کے مطابق حکومت کی جانب سے صحت کے نظام کو مرکزی کنٹرول میں لانے کی پالیسی نے ہنگامی حالات میں فیصلے کرنے کا اختیار فرنٹ لائن کارکنوں سے چھین لیا۔
انہوں نے کہااب ہمارا نظام کیوبیک سٹی سے چلایا جا رہا ہے، جو کہ بالکل غیر عملی ہے۔ اگر کوٹ سینٹ لک کے کسی چھوٹے ادارے میں فلو پھیل جائے تو اس کا فیصلہ وہیں ہونا چاہیے تھا، لیکن اب وہ 250 کلومیٹر دور سے کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا،ہم نے کووڈ کے دوران دیکھا کہ جب فیصلے مؤخر کیے گئے تو لوگوں کی جانیں گئیں۔”
کیلن کا کہنا ہے کہ کیوبیک کے ڈاکٹر ایسے رہنما کے خواہاں ہیں جو صرف انتخابی مدت سے آگے سوچ سکے۔انہوں نے کہاگزشتہ پچیس برسوں میں پی کیو، لبرلز، پی کیو دوبارہ، اور سی اے کیو — سب ہی صحت کے شعبے میں ناکام رہے ہیں۔”
ڈاکٹروں کی اس مایوسی کی بازگشت ایف آئی کیو نرسز یونین نے بھی سنائی، جو تقریباً 80 ہزار نرسوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس یونین نے 2023 میں بہتر تنخواہوں اور کام کے حالات کے مطالبے پر ہڑتال کی تھی۔
یونین نے اپنے بیان میں کہاکافی عرصے سے مسٹر لیگو صحت کے شعبے کو ایک کاروبار کی طرح چلاتے رہے ہیں، جہاں انتظامی اعداد و شمار اور نمائشی منصوبوں پر انحصار کیا گیا، نہ کہ مریضوں کے تحفظ اور عملے کی حقیقی مدد پر۔ ہم امید کرتے ہیں کہ لیگو کے جانشین عوامی صحت نظام میں حقیقی بہتری کے لیے ضروری فیصلے کریں گے۔”
ابھی یہ واضح نہیں کہ لیگو کا جانشین کون ہوگا، کیونکہ پارٹی قیادت کے انتخاب کی تیاری کر رہی ہے، اور یہ بھی سوال ہے کہ نیا سی اے کیو رہنما انتخابات میں پارٹی کی گرتی ہوئی مقبولیت کو کیسے سنبھال پائے گا۔
کیلن نے کہاہمیں ایسے شخص کی ضرورت نہیں جو وہی پرانی پالیسیاں دہرائے۔ ہمیں بہتر صحت نظام کے لیے ایک واضح وژن چاہیے۔سیاسی تجزیہ کار کریم بولوس کے مطابق، جو امیدوار لیگو کے بہت قریب سمجھے جائیں گے، ان کے لیے راستہ مشکل ہوگا۔
انہوں نے کہااگر آپ موجودہ کاکس کا حصہ ہیں اور لیگو کے قریبی ساتھی رہے ہیں، تو اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ کہنا ممکن نہیں ہوگا کہ ‘یہ میرا فیصلہ نہیں تھا۔’”
بولوس کے مطابق اس وقت سی اے کیو کے لیے کامیابی یہی ہوگی کہ نقصان کو روکا جائے اور کم از کم 15 سے 20 نشستیں جیت کر پارٹی کی حیثیت برقرار رکھی جائے۔”
لیگو کی کابینہ کے وزرا میں حالیہ دنوں میں ایک نام نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے: وزیرِ معیشت کرسٹین فریشیٹ۔جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فریشیٹ نے کہا کہ وہ پارٹی قیادت کے لیے امیدوار بننے پر غور کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہامیں پارٹی قیادت پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہوں، اور آنے والے دنوں میں اس پر سوچ بچار کروں گی۔ میں ساتھیوں اور اپنے خاندان سے بھی مشورہ کروں گی۔اسی روز صبح، سائبر سیکیورٹی کے وزیر ژیل بیلانجے نے فریشیٹ کی قیادت کے لیے پہلی باقاعدہ حمایت کا اعلان کیاانہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کو قیادت کی دوڑ سے بچانے کے لیے بہتر ہوگا کہ فریشیٹ کو بلا مقابلہ رہنما منتخب کر لیا جائے۔