اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں سیاسی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جہاں ووٹرز 5 اکتوبر کو نئے پریمیئر کے انتخاب کے لیے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کریں گے۔ ابتدائی اشارے ایک بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، جس میں پارٹی کیوبیکوا (PQ) کی حمایت میں اضافہ اور صوبے کی خودمختاری (سورینٹی) پر ایک بار پھر زور دار بحث شامل ہے۔
حالیہ سرویز اور پولنگ رپورٹس کے مطابق پارٹی کیوبیکوا اپنی پوزیشن مضبوط کرتی دکھائی دے رہی ہے، خاص طور پر اس وجہ سے کہ پارٹی نے خودمختاری پر ریفرنڈم کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ بنا لیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ PQ کی واضح حکمتِ عملی نے اس کے روایتی ووٹر بیس کو متحرک کر دیا ہے۔
دوسری جانب کیوبیک لبرل پارٹی اندرونی بحران کے بعد خود کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب اس کے رہنما پابلو روڈریگز نے دسمبر میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اب پارٹی 14 مارچ کو نئے قائد کے انتخاب کی تیاری کر رہی ہے، تاہم سیاسی ماہرین کے مطابق لبرلز کو عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے سخت محنت درکار ہوگی۔
حکمران جماعت کولیشن ایونیر کیوبیک (CAQ) کے گرد بھی سوالات منڈلا رہے ہیں، خاص طور پر وزیرِ صحت کرسچین دوبے کے مستعفی ہونے کے بعد۔ اس پیش رفت نے انتخابی مہم سے قبل ہی غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار کریم بولوس کے مطابق،
“جو مقابلہ ممکنہ طور پر تین جماعتوں کے درمیان ہونا تھا، اب وہ بظاہر پارٹی کیوبیکوا کی جیت کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے، اور اس کے مقابلے میں مزاحمت خاصی کم نظر آ رہی ہے۔”
مونٹریال میں ووٹرز کی رائے منقسم دکھائی دیتی ہے۔ کچھ شہری ممکنہ تیسرے ریفرنڈم کے خیال سے پریشان ہیں۔ ایک رہائشی نے کہا،مجھے اس بات پر شدید تشویش ہے کہ کہیں پارٹی کیوبیکوا اقتدار میں نہ آ جائے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ کیوبیک کے لیے اچھا ہوگا۔”
دوسری جانب بعض افراد کا کہنا ہے کہ PQ کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ مونٹریال کے رہائشی اسٹیفن ونسنٹ کے مطابق،یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کچھ لوگ ریفرنڈم نہیں چاہتے، لیکن پھر بھی پارٹی کیوبیکوا کو ووٹ دیتے ہیں، حالانکہ یہی ان کا سب سے بڑا مقصد ہے۔”
بہت سے ووٹرز کے لیے ایک اور ریفرنڈم کا امکان سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ جیکب پشپکرا نے کہا،میں علیحدگی نہیں چاہتا۔ میں اب بھی کینیڈا کا حصہ رہنا چاہتا ہوں۔”
سیاسی تجزیہ کار ایلینی باکوپانوس کا کہنا ہے کہ خودمختاری کا مسئلہ آئندہ انتخاب میں پارٹی کیوبیکوا کے بیانیے کا مرکز رہے گا۔
“پارٹی کیوبیکوا ریفرنڈم کی بات کرتی رہے گی کیونکہ یہی ان کے وجود کی بنیاد ہے۔ یہ دراصل اپنے بنیادی ووٹرز کو خوش کرنے کی کوشش ہے۔”کریم بولوس نے خبردار کیا کہ خودمختاری کی جانب کسی بھی قدم کے لیے انتہائی سوچ بچار ضروری ہوگی۔
“خودمختاری کا سوال بہت احتیاط سے اٹھانا ہوگا۔ کوئی بھی تیسری بار ناکامی نہیں چاہتا۔”انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی محض معمولی اکثریت نہیں بلکہ مضبوط عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔
نوجوان ووٹرز بھی اس معاملے پر تقسیم نظر آتے ہیں۔ کچھ کے نزدیک معاشی دباؤ آئینی معاملات سے زیادہ اہم ہے، جبکہ کچھ نوجوان کیوبیک کی شناخت اور ثقافت پر بحث کو ضروری سمجھتے ہیں۔ ایک نوجوان مونٹریالر نے کہا،کیوبیک کی ثقافت اور شناخت پر بات کرنا ضروری ہے، لیکن موجودہ معاشی حالات میں مجھے نہیں لگتا کہ علیحدگی کا یہ صحیح وقت ہے۔”
سیاسی جماعتوں میں جاری اتھل پتھل اور ووٹرز کی منقسم رائے کے باعث تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2026 کے صوبائی انتخابات کا حتمی نتیجہ اب بھی غیر یقینی ہے، اور آنے والے مہینے کیوبیک کی سیاست کے لیے نہایت اہم ثابت ہوں گے۔