اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)اعداد و شمار کے وفاقی ادارے اسٹیٹسٹکس کینیڈا کے تازہ ترین اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2023 میں زیادہ تر کینیڈینز کی حقیقی آمدنی میں مزید کمی واقع ہوئی، کیونکہ افراطِ زر نے کمائی کی قدر کو مسلسل کمزور کیا۔
رپورٹ کے مطابق اوسط کینیڈین ٹیکس فائلر کی افراطِ زر سے مطابقت رکھنے والی آمدنی میں 0.3 فیصد کمی ہوئی اور یہ گھٹ کر 59,900 ڈالر رہ گئی۔ یہ کمی 2022 میں ہونے والی زیادہ نمایاں گراوٹ کے بعد بھی برقرار رہی۔
البتہ ایک طبقہ ایسا ہے جو اس رجحان سے مستثنیٰ رہا انتہائی امیر افراد۔سب سے زیادہ 0.01 فیصد آمدنی والے طبقے کی افراطِ زر سے ایڈجسٹ شدہ آمدنی میں معمولی اضافہ ہوا اور اوسط آمدنی 77 لاکھ 40 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی۔
اسٹیٹسٹکس کینیڈا کے مطابق اس طبقے کی آمدنی کا بڑا حصہ تنخواہ کے بجائے سرمایہ کاری، منافع اور دیگر غیر تنخواہی ذرائع سے آتا ہے، اسی لیے وہ افراطِ زر سے کم متاثر ہوئے۔
کیلگری یونیورسٹی کے طالبِ علم کیریلوس بوکٹر، جو تعمیراتی منصوبہ بندی کے شعبے کے آخری سال میں ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ان کے روزمرہ کے تجربے سے مطابقت رکھتے ہیںانہوں نے کہا کہ آج کل جدوجہد آسائشوں کے لیے نہیں بلکہ بقا کے لیے ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں :بینک آف کینیڈا نے شرح سود کو 2.75 فیصد پر برقرار رکھا، ہاؤسنگ مارکیٹ کے خاتمے کا خطرہ
ان کے بقول،یہ کسی عیش و عشرت کی بات نہیں، بلکہ بنیادی ضروریات پوری کرنے کی جنگ ہے۔ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو آمدنی بڑھانے کی کوشش بھی ناکافی ثابت ہوتی ہے۔
بیل ویدر فیملی ویلتھ کے ایسوسی ایٹ پورٹ فولیو مینیجر ڈین بیائرٹ نے طویل المدتی معاشی تناظر میں کہا کہ معاشی رجحانات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے
ان کے مطابق، ’’میں نے تقریباً تیس سال میں یہ سیکھا ہے کہ کوئی بھی رجحان مستقل نہیں رہتا۔ اگر آمدنی کا رجحان کمزور ہے تو وقت کے ساتھ یہ بدل بھی سکتا ہے۔
اسی دوران اولیور یوزوشن جیسے کئی کینیڈین شہری نظامی تبدیلی کی امید لگائے بیٹھے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’’بہتر نظام وہ ہوگا جو کاروباروں کو ترقی دے اور روزگار کے مواقع بڑھائے — اسی سے سب کو آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔
یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب وزیرِاعظم مارک کارنی ایک نیا وفاقی بجٹ پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں
انہوں نے واضح کیا ہے کہ معیشت کی تبدیلی فوری نہیں ہوگی بلکہ اس میں وقت اور قربانیاں درکار ہوں گی ان کے بقول، ’’ہم اپنی معیشت کو آسانی سے یا چند مہینوں میں تبدیل نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے وقت بھی لگے گا اور کچھ قربانیاں بھی دینا ہوں گی۔‘
وفاقی وزیرِ خزانہ فرانسوا-فلپ شامپین منگل کی شام چار بجے 2025-26 کا بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کریں گے۔
پچھلے سال اپریل میں پیش کیے گئے بجٹ میں 535 ارب ڈالر کے اخراجات شامل تھے جن میں سے 11.5 ارب ڈالر نئی اسکیموں پر خرچ ہونا تھے، جبکہ خسارہ 39 ارب ڈالر بتایا گیا تھا
تاہم دسمبر 2024 میں پیش کی گئی اقتصادی اپ ڈیٹ میں خسارہ بڑھ کر 48 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جس پر اُس وقت کی وزیرِ خزانہ کریسٹیا فری لینڈ کے اچانک استعفے نے مزید سیاسی دباؤ بڑھا دیا۔
اب انتخابات کے بعد حزبِ اختلاف کی جماعتیں وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ ملک کی مالی صورتِ حال پر مکمل شفافیت اختیار کرے اور نیا بجٹ جلد از جلد پیش کرے۔