اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ میں موجود مسلح دھڑوں کو غیرمسلح کرنے کے مطالبات کو سختی سے مسترد کر دیا
ایسا کوئی بھی اقدام مقبوضہ فلسطینی عوام کو “آسان ہدف” بنانے کے مترادف ہوگا۔عرب میڈیا کے مطابق حماس کے بیرونِ ملک سیاسی امور کے سربراہ خالد مشعل نے الجزیرہ فورم کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ دراصل فلسطینی مسلح مزاحمت کو کمزور کرنے کی طویل کوششوں کا تسلسل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک فلسطینی عوام قبضے میں ہیں، اس وقت تک غیرمسلح ہونے کی بات ان کی سلامتی کے لیے خطرناک ہوگی۔
خالد مشعل نے کہا کہ فلسطینیوں سے ہتھیار چھین لینا انہیں ایسے وقت میں غیر محفوظ بنا دے گا جب اسرائیل جدید بین الاقوامی اسلحے سے لیس ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام فلسطینی عوام کو ختم کرنے کی کوشش تصور کیا جائے گا، اس لیے حماس اس مطالبے کو قبول نہیں کر سکتی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر غیرمسلح ہونے جیسے حساس معاملے پر کوئی پیش رفت مطلوب ہے تو سب سے پہلے ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جس میں غزہ کی تعمیرِ نو ممکن ہو، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جائے اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکانات کو روکا جائے۔
حماس رہنما کا کہنا تھا کہ تنظیم نے اپنے مؤقف سے قطر، ترکیہ اور مصر جیسے ثالث ممالک کو آگاہ کر دیا ہے، جبکہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر امریکا تک بھی اپنا نقطہ نظر پہنچایا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے وسیع سفارتی کوششیں درکار ہیں، محض غیرمسلح ہونے کا مطالبہ کافی نہیں۔خالد مشعل نے اسرائیل پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ حماس یا دیگر مزاحمتی گروہوں کی ضمانت نہیں بلکہ اسرائیل کی پالیسی ہے، جو فلسطینیوں کو غیرمسلح کرکے انہیں کمزور کرنا اور خطے میں افراتفری پیدا کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن کے لیے بنیادی تنازعات کا حل ضروری ہے۔