اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں پیدا ہونے والی معروف کامیڈی اداکارہ اور SCTV کی سابق رکن کیتھرین اوہارا جمعے کو 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ وہ دو مشہور فلموں “ہوم الون” میں میکالے کلکن کی پریشان حال ماں اور مقبول ٹی وی سیریز “شٹس کریک” میں موئرا روز کے کردار کے لیے دنیا بھر میں جانی جاتی تھیں۔
اوہارا کا انتقال لاس اینجلس میں ان کے گھر پر “مختصر علالت” کے بعد ہوا۔ ان کے نمائندوں نے یہ بات کری ایٹو آرٹسٹس ایجنسی کے جاری کردہ بیان میں بتائی، تاہم بیماری کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
کیتھرین اوہارا کے فنی کیریئر کا آغاز 1970 کی دہائی میں ٹورنٹو کے مشہور سیکنڈ سٹی کامیڈی گروپ سے ہوا۔ وہیں ان کی ملاقات یوجین لیوی سے ہوئی، جو بعد میں ان کے قریبی ساتھی بنے اور “شٹس کریک” میں بھی ان کے ساتھ جلوہ گر ہوئے۔ دونوں بعد میں اسکیچ کامیڈی شو “SCTV” کے اصل کاسٹ کا حصہ بنے، جس نے مارٹن شارٹ، جان کینڈی، رک مورینس اور دیگر نامور کامیڈینز کو شہرت دی۔
اوہارا نے SCTV کے لیے تحریر پر اپنا پہلا ایمی ایوارڈ جیتا۔ چار دہائیوں بعد، انہیں دوسرا ایمی “شٹس کریک” میں بہترین کامیڈی اداکارہ کے کردار پر ملا، جسے ان کے کیریئر کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔ اس سیریز نے اپنے آخری سیزن میں ایمی ایوارڈز پر غلبہ حاصل کیا اور اوہارا کو نئی نسل کے ناظرین میں بھی بے حد مقبول بنا دیا۔
موئرا روز کے کردار کے لیے اوہارا نے ایک منفرد انداز اپنایا، جس میں مبالغہ آمیز لہجہ اور نایاب الفاظ شامل تھے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ پرانی لغات کھنگال کر مکالموں کو مزید منفرد بناتی تھیں۔ اس کردار پر انہیں گولڈن گلوب اور دو اسکرین ایکٹرز گلڈ ایوارڈز بھی ملے۔
اوہارا نے 1988 کی فلم “بیٹل جوس” اور مارٹن اسکورسیزی کی “آفٹر آورز” سمیت کئی یادگار معاون کردار ادا کیے۔ تاہم انہیں سب سے زیادہ عوامی پذیرائی “ہوم الون” فلموں میں ماں کے کردار سے ملی، جو 1990 کی دہائی کی سب سے کامیاب فلموں میں شامل رہیں۔
میکالے کلکن نے ان کی موت پر سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے ساتھ مزید وقت گزارنا چاہتے تھے۔ اداکارہ میریل اسٹریپ نے کہا کہ اوہارا نے اپنے کرداروں کے ذریعے دنیا میں محبت اور روشنی پھیلائی۔
بعد ازاں، اوہارا نے ہدایتکار کرسٹوفر گیسٹ کے ساتھ بننے والی مزاحیہ ڈاکیومنٹری طرز کی فلموں میں کام کیا، جن میں “ویٹنگ فار گف مین”، “بیسٹ ان شو” اور “اے مائٹی ونڈ” شامل ہیں۔
“بیسٹ ان شو” ان فلموں میں سب سے زیادہ کامیاب ثابت ہوئی۔کرسٹوفر گیسٹ نے کہاہم نے اپنی نسل کے عظیم کامیڈی فنکاروں میں سے ایک کو کھو دیا ہے۔”