اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک نئی تحقیق نے خبردار کیا ہے
ایسے اے آئی چیٹ بوٹس اور سسٹمز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو انسانی ہدایات کو نظرانداز کرنے، جھوٹ بولنے اور دھوکا دینے جیسے رویے اختیار کر رہے ہیں۔یہ تحقیق برطانیہ کے سرکاری تعاون سے قائم اے آئی سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ کی معاونت سے کی گئی، جس میں اے آئی سسٹمز کے عملی رویوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
700 سے زائد حقیقی واقعات کی نشاندہی
رپورٹ کے مطابق محققین نے تقریباً 700 حقیقی واقعات کی نشاندہی کی، جن میں اے آئی چیٹ بوٹس اور ایجنٹس نے براہِ راست دی گئی ہدایات کو نظرانداز کیا ،حفاظتی نظاموں (سیفٹی گارڈز) کو بائی پاس کیا، انسانوں کے ساتھ ساتھ دیگر اے آئی سسٹمز کو بھی گمراہ کیا
رپورٹ جو معروف برطانوی اخبار دی گارجین کے ساتھ شیئر کی گئی، میں انکشاف کیا گیا کہ اکتوبر سے مارچ کے دوران اس قسم کے "غلط رویوں” میں تقریباً پانچ گنا اضافہ دیکھا گیا۔
خودمختار اور تشویشناک رویے
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ بعض اے آئی ماڈلز نے بغیر اجازت ای میلز اور دیگر فائلیں حذف کر دیں، جو کہ خودمختار اور ممکنہ طور پر خطرناک رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ واقعات اس بات کی علامت ہیں کہ اے آئی سسٹمز اب لیبارٹری تک محدود نہیں رہے بلکہ حقیقی دنیا میں ایسے اقدامات کر رہے ہیں جو غیر متوقع اور پیچیدہ ہیں۔
عالمی سطح پر تشویش اور نگرانی کے مطالبات
ان انکشافات کے بعد دنیا بھر میں اے آئی ٹیکنالوجی کی نگرانی (ریگولیشن) کے مطالبات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے اے آئی کو روزمرہ زندگی اور معیشت میں زیادہ شامل کیا جا رہا ہے، ویسے ویسے اس کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔خاص طور پر سِلیکون ویلی کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی کو تیزی سے فروغ دے رہی ہیں اور اسے مستقبل کی معیشت کے لیے گیم چینجر قرار دے رہی ہیں۔
برطانیہ میں اے آئی کے فروغ کی مہم
دوسری جانب برطانیہ میں حکومت اے آئی کے استعمال کو بڑھانے کے لیے سرگرم ہے۔ گزشتہ ہفتے برطانوی چانسلر نے لاکھوں شہریوں کو اے آئی ٹیکنالوجی اپنانے کی ترغیب دینے کے لیے ایک مہم کا آغاز بھی کیا
ماہرین کی رائے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی بے شمار فوائد فراہم کر سکتی ہے، لیکن اس کے غیر متوقع اور خودمختار رویوں کو نظرانداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مضبوط حفاظتی نظام وضع کیے جائیں، شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور عالمی سطح پر مشترکہ قوانین بنائے جائیں
یہ تحقیق اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل جتنا روشن ہے، اتنا ہی محتاط انداز میں اس کی نگرانی بھی ضروری ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔