اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)روس نے پاکستان، بھارت اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کر دی ہے۔ یہ اعلان روسی سفیر البرٹ خوریف نے اسلام آباد انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کی ایک نشست میں کیا۔ سفیر خوریف نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے روس تیار ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے پر یقین رکھتا ہے۔
روس نے خاص طور پر افغانستان کی موجودہ صورتحال کو نہایت حساس قرار دیا اور بتایا کہ وہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ سفیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیرونی طاقتوں کی مداخلت خطے میں تنازعات میں اضافہ کرتی ہے، اور روس ہمیشہ علاقائی امن، استحکام اور دہشت گردی کے خلاف کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
روس کے مطابق، خطے کے تنازعات کو سب سے بہتر طریقے سے علاقائی فریقین ہی حل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو ایک اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی جغرافیائی اور سفارتی حیثیت نمایاں اور نہایت اہم ہے۔
سفیر خوریف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے ساتھ معاشی اور سماجی ترقی کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم برقرار ہے، اور دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ماسکو میں صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد پاکستان اور روس کے تعلقات میں گرمجوشی کے امکانات بڑھ گئے ہیں، اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ثالثی کی پیشکش خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔