اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ٹورنٹو ریپٹرز کے اسٹار کھلاڑی اسکاٹی بارنز نے ایک تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو گولڈن اسٹیٹ واریئرز کے خلاف سنسنی خیز مقابلے میں فتح دلوا دی۔
اتوار کو کھیلے گئے اس میچ میں ریپٹرز نے اوور ٹائم کے بعد واریئرز کو 127-141 سے شکست دی، جبکہ اسکاٹی بارنز نے اپنی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی سے سب کی توجہ حاصل کر لی۔اسکاٹی بارنز نے میچ میں سیزن کی پہلی ٹرپل ڈبل بناتے ہوئے 23 پوائنٹس، 25 ری باؤنڈز اور 10 اسسٹ فراہم کیے۔ یہ کارکردگی نہ صرف ان کے کیریئر کی بہترین کارکردگیوں میں شامل ہے بلکہ ریپٹرز کی تاریخ میں بھی ایک نیا ریکارڈ بن گئی، کیونکہ وہ ایک ہی میچ میں 25 ری باؤنڈز لینے والے پہلے کھلاڑی بن گئے۔ این بی اے کی تاریخ میں بھی وہ ایسے صرف 23ویں کھلاڑی ہیں جنہوں نے ایک ہی میچ میں 23 سے زائد پوائنٹس، 25 ری باؤنڈز اور 10 اسسٹ مکمل کیے ہوں۔
میچ کے آخری لمحات انتہائی سنسنی خیز تھے۔ چوتھے کوارٹر کے اختتام سے صرف 24.8 سیکنڈ پہلے، جب ریپٹرز 122-119 سے پیچھے تھے، برینڈن انگرام کی تھری پوائنٹ شاٹ مس ہوئی، جس پر اسکاٹی بارنز نے شاندار ری باؤنڈ لیتے ہوئے گیند واپس باسکٹ میں ڈال دی اور مقابلہ برابر کر دیا، یوں میچ اوور ٹائم میں چلا گیا۔ اوور ٹائم میں ریپٹرز نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے واضح برتری حاصل کی۔میچ کے بعد اسکاٹی بارنز نے کہا کہ ان کے ذہن میں کسی ریکارڈ یا اعداد و شمار کا خیال نہیں تھا بلکہ وہ صرف جیت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف گیند پر نظر رکھے ہوئے تھے اور جہاں موقع ملا وہاں اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر میچ میں یہی کوشش کرتے ہیں کہ ٹیم کو جتوانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
ریپٹرز کے لیے عمانوئل کوئکلی نے 27 پوائنٹس اور سات اسسٹ کیے جبکہ برینڈن انگرام نے 26 پوائنٹس اور چھ اسسٹ کے ساتھ ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ کوچ دارکو راجاکووچ نے بارنز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ری باؤنڈنگ، ڈیفنس اور پلے میکنگ میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی اور پوری ٹیم کو لیڈ کیا۔دوسری جانب گولڈن اسٹیٹ واریئرز کے اسٹار اسٹیفن کری نے 39 پوائنٹس اسکور کیے، جن میں تیسرے کوارٹر میں کیے گئے 14 پوائنٹس بھی شامل تھے، تاہم اس کے باوجود ان کی ٹیم شکست سے نہ بچ سکی۔ کری نے اعتراف کیا کہ اس میچ میں اسکاٹی بارنز کا اثر نمایاں تھا اور انہوں نے ریپٹرز کو اضافی مواقع فراہم کیے۔
واضح رہے کہ اس میچ میں ریپٹرز کے دو اہم سینٹرز، جیکب پوئٹل اور کولن مرے بوائلز، انجری اور بیماری کے باعث دستیاب نہیں تھے، جس کے باعث اسکاٹی بارنز کو بطور سینٹر کھیلنا پڑا۔ انہوں نے اس نئے کردار کو بخوبی نبھاتے ہوئے ثابت کیا کہ وہ ٹیم کے لیے ہر پوزیشن پر مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔یہ شاندار فتح ریپٹرز کے لیے نہ صرف اعتماد میں اضافے کا باعث بنی بلکہ اسکاٹی بارنز نے بھی ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ ٹیم کے مستقبل کے لیڈر ہیں اور آل اسٹار معیار کی کارکردگی پیش کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔