اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ غزہ امن منصوبے کی حمایت میں پیش کی گئی
قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی۔ قرارداد کے حق میں 14 ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ سامنے نہ آیا۔ البتہ روس اور چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا اور اجلاس کے دوران متعدد نکات پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔قرارداد کی منظوری کے بعد امریکا کے مستقل مندوب نے اسے خطے کے لیے ’’تاریخی اور تعمیری پیش رفت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری نے بالآخر غزہ کی سنگین صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے مشترکہ قدم اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد غزہ کے مستقبل میں امن، بحالی اور استحکام کے لیے اہم سنگ میل بن سکتی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر **پاکستان، مصر، قطر، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیے اور انڈونیشیا** سمیت کئی ممالک کا تعاون پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔
منظور شدہ قرارداد میں دو اہم نکات
1. غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی2
. غزہ میں عبوری انتظامی ڈھانچے کے قیام کی سفارش جس کے ذریعے علاقے میں گورننس، سکیورٹی اور امدادی اقدامات کو منظم کیا جائے گا۔
تاہم سلامتی کونسل کی منظوری کے باوجود اس قرارداد نے فلسطینی مزاحمتی گروہوں میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔ حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے مجوزہ منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قرارداد فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق اور دیرینہ مطالبات کی عکاسی نہیں کرتی۔ حماس کے مطابق غزہ پر بین الاقوامی فورس کی تعیناتی درحقیقت ایک نئی سرپرستی قائم کرے گی جس سے غزہ کی خودمختاری متاثر ہوگی اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اعتماد کا خلا مزید گہرا ہوگا۔
حماس نے مزید واضح کیا کہ انسانی امداد کی ترسیل اور انتظام کا عمل صرف اقوام متحدہ کے ماتحت فلسطینی اداروں کے ذریعے ہونا چاہیے، تاکہ امدادی سرگرمیاں سیاسی اثر و رسوخ سے پاک رہیں۔ تنظیم نے بین الاقوامی کمیونٹی پر زور دیا کہ غزہ کے مستقبل کا فیصلہ صرف اور صرف فلسطینیوں کی خواہشات اور اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ بیرونی طاقتوں کے منصوبوں کے تحت۔سلامتی کونسل کی اس پیش رفت نے غزہ کی صورتحال کے حوالے سے ایک نئی عالمی بحث کو جنم دے دیا ہے، اور اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ زمینی حقائق میں اس قرارداد کا کیا اثر سامنے آتا ہے اور فلسطینی عوام اسے کس طرح قبول کرتے ہیں۔