اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کے مغربی صوبے برٹش کولمبیا میں شدید بارشوں کے بعد وینکوور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں
سیلاب کی صورتحال نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ 30 اور 31 جنوری کی درمیانی شب ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے باعث وینکوور کے مشرقی علاقوں اور خصوصاً کومکس ویلی میں پانی کی سطح اچانک بلند ہو گئی، جس کے نتیجے میں متعدد رہائشی علاقے زیرِ آب آ گئے۔ سیلابی صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی کہ کئی گھروں میں پانی داخل ہو گیا اور متعدد افراد اپنے مکانات میں پھنس کر رہ گئے، جنہیں بعد ازاں ریسکیو عملے نے بحفاظت نکال لیا۔
کامکس ویلی میں جمعہ کے روز اس وقت کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا جب ڈو کریک اور دیگر ندی نالوں میں پانی خطرناک حد تک بڑھ گیا۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق شدید بارشوں کے باعث نکاسیٔ آب کا نظام دباؤ کا شکار ہو گیا، جس سے سیلابی پانی رہائشی علاقوں کی جانب پھیلنے لگا۔ کئی سڑکیں بند ہو گئیں، آمد و رفت متاثر ہوئی اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔
ریسکیو اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کشتیوں اور خصوصی گاڑیوں کے ذریعے پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ کامکس ویلی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم نے تصدیق کی کہ نہ صرف لوگوں بلکہ جانوروں کو بھی بچایا گیا، جن میں چار بھیڑیں شامل تھیں جو سیلابی پانی میں گھرے ایک فارم پر پھنس گئی تھیں۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق جانور خوفزدہ حالت میں تھے، تاہم احتیاط اور مہارت سے انہیں محفوظ مقام تک پہنچا دیا گیا۔
کامکس ویلی ریجنل ڈسٹرکٹ، سٹی آف کورٹینی اور کومکس فرسٹ نیشن نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جمعہ کی سہ پہر باضابطہ طور پر ہنگامی حالت نافذ کر دی۔ حکام کا کہنا تھا کہ ہنگامی حالت کے نفاذ کا مقصد وسائل کو تیزی سے متحرک کرنا، ریسکیو آپریشنز کو مؤثر بنانا اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ اسی دوران ڈو کریک کے لیے باقاعدہ سیلاب وارننگ بھی جاری کی گئی، جس میں نشیبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو فوری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔
وینکوور کے مشرقی علاقوں میں بھی صورتحال تشویشناک رہی۔ کئی گلیاں اور رہائشی سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں، جس کے باعث گاڑیاں پھنس گئیں اور بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔ شہریوں نے سوشل میڈیا پر سیلاب کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں، جن میں گھروں کے باہر جمع پانی، زیرِ آب سڑکیں اور ریسکیو آپریشنز واضح طور پر دیکھے جا سکتے تھے۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بارش کی شدت غیر معمولی تھی اور بہت کم وقت میں پانی خطرناک حد تک بڑھ گیا۔ ایک رہائشی کے مطابق، انہیں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ صورتحال اتنی تیزی سے بگڑ جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے صرف بارش ہو رہی تھی، مگر چند ہی گھنٹوں میں پانی گھر کے دروازے تک پہنچ گیا، جس کے بعد انہیں ریسکیو عملے سے مدد طلب کرنا پڑی۔ریسکیو اہلکاروں نے بتایا کہ بعض علاقوں میں پانی کا بہاؤ اتنا تیز تھا کہ لوگوں تک پہنچنا مشکل ہو گیا، تاہم پیشگی منصوبہ بندی اور جدید آلات کی مدد سے تمام متاثرہ افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ خوش آئند بات یہ رہی کہ کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی، تاہم املاک کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
برٹش کولمبیا کے ہنگامی انتظامی حکام کے مطابق، حالیہ سیلاب ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی، شدید بارشوں کے مختصر دورانیے اور ندی نالوں میں اچانک پانی کی سطح میں اضافہ، ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نکاسیٔ آب کے نظام کو جدید خطوط پر استوار نہ کیا گیا تو مستقبل میں ایسے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
کومکس فرسٹ نیشن کی قیادت نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمیونٹی پہلے ہی ماحولیاتی خطرات کا سامنا کر رہی ہے اور سیلاب نے ان مسائل کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہنگامی حالت کے نفاذ سے فوری امداد ممکن ہو سکی، تاہم طویل المدتی حل کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔
سیلاب کے بعد کئی خاندانوں کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، جہاں انہیں خوراک، گرم کپڑے اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ریڈ کراس اور دیگر امدادی تنظیمیں بھی متحرک ہو گئی ہیں اور متاثرہ افراد کی مدد کے لیے فنڈز اور وسائل جمع کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق، جیسے ہی پانی کی سطح کم ہو گی، متاثرہ علاقوں میں صفائی اور بحالی کا کام شروع کر دیا جائے گا۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ چند دنوں کے لیے مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صورتحال دوبارہ سنگین ہو سکتی ہے۔ اسی لیے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقامی حکام کی جانب سے جاری کردہ الرٹس پر عمل کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد خصوصی احتیاط برتیں۔
ماضی میں بھی برٹش کولمبیا کے مختلف حصے شدید سیلاب کی زد میں آ چکے ہیں، جن سے نہ صرف انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا بلکہ معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ حالیہ سیلاب نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ آیا موجودہ انفراسٹرکچر مستقبل کے موسمی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہے یا نہیں۔
عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت فوری طور پر سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کرے، ندی نالوں کی صفائی اور گنجائش میں اضافہ کیا جائے اور شہری منصوبہ بندی میں موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھا جائے۔ ماہرین کے مطابق، اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے قدرتی آفات کے معاشرتی اور معاشی اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
فی الحال، وینکوور اور کومکس ویلی کے متاثرہ علاقوں میں حالات بتدریج معمول کی طرف آ رہے ہیں، تاہم خوف اور بے یقینی کی کیفیت اب بھی موجود ہے۔ متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ محفوظ تو ہیں، مگر ہر نئی بارش انہیں دوبارہ اسی خوف میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ان کے مطابق، اصل امتحان سیلاب کے بعد کی بحالی اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کا ہے۔