اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)ملک کے مختلف علاقوں میں شدید برفباری کے باعث نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے، بالائی علاقوں میں کئی فٹ برف پڑنے کی وجہ سے اہم رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔ تاہم پاک فوج اور ضلعی انتظامی اداروں کی بروقت کارروائیوں کے نتیجے میں درجنوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
ملک کے بیشتر بالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ تھمنے لگا ہے، تاہم مزید برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ راستوں سے برف ہٹانے کا کام تیز کر دیا گیا ہے اور رابطہ سڑکیں بحال کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جبکہ مسافروں اور سیاحوں کے لیے امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا رہی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں بارش اور برفباری کا سلسلہ تھم گیا ہے، مگر وادی لیپہ، بالائی نیلم، سدھن گلی، پیر چناسی، محمود گلی اور لسڈنہ کے بیشتر بالائی علاقوں کی شاہراہیں اب بھی بند ہیں۔ نظام زندگی متاثر ہے اور بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ مظفرآباد میں درجہ حرارت منفی سات ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے۔ شدید برفباری کے باعث ضلع حویلی میں ایمبولینس سمیت تقریباً 25 گاڑیاں پھنس گئیں، پاک فوج نے 32 مسافروں کو ریسکیو کیا اور ایمبولینس میں موجود دو میتیں بھی نکالی گئیں۔ وادی نیلم میں شدید برفباری کے نتیجے میں تین مکانات گر گئے۔
خیبرپختونخوا میں وادی کاغان میں برفباری کے بعد رابطہ سڑکیں بند ہونے پر انتظامیہ نے سیاحوں کا داخلہ روک دیا اور انہیں بالا کوٹ میں مقیم کر دیا۔ دیربالا، کمراٹ، لواری ٹنل اور باجوڑ میں بھی برفباری کے باعث راستے بند ہیں۔ ملاکنڈ میں کئی سال بعد برفباری ہوئی اور کچھ مقامات پر درخت سڑکوں پر گر گئے۔ خیبر میں پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کیا جا رہا ہے اور شانگلہ ٹاپ میں 22 گھنٹوں سے برف میں پھنسے چار سیاح محفوظ مقامات پر منتقل کر دیے گئے ہیں۔
گلگت بلتستان میں چلاس اور اپر کوہستان میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے شاہراہِ قراقرم مختلف مقامات پر بند ہو گئی، جس کے باعث سیکڑوں مسافر اور مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں۔ استور میں شدید برفباری سے نظام زندگی درہم برہم ہو گیا اور ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ راما میڈوز، دیوسائی، نانگا پربت اور برزل ٹاپ میں پانچ سے چھ فٹ تک برف پڑ چکی ہے، جبکہ مشرف چوک میں برفانی تودے گرنے سے روڈ بلاک ہو گیا۔ ہنزہ اور نگر میں بھی رابطہ سڑکیں بند ہیں، وادی چیپورسن میں خیموں میں مقیم زلزلہ متاثرین کو سخت سردی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
گلیات میں نتھیاگلی میں تین فٹ سے زائد جبکہ ٹھنڈیانی میں چار فٹ تک برف پڑ چکی ہے، جس کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ نتھیاگلی میں درجہ حرارت منفی نو جبکہ ایبٹ آباد میں منفی چار ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ شدید سردی اور برف کی وجہ سے ایبٹ آباد سے مری جانے والی مرکزی سڑک اب بھی بند ہے اور گلیات کے مختلف دیہات کی رابطہ سڑکیں بند ہیں۔ بجلی کی فراہمی گزشتہ دو روز سے معطل ہے، جس سے گھروں میں حرارت کے انتظامات متاثر ہوئے اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق سڑکوں کی بحالی اور بجلی کی فراہمی کے لیے کام جاری ہے، تاہم شدید سردی اور برف کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ملکہ کوہسار میں چوبیس گھنٹے جاری رہنے والی برفباری کا سلسلہ تھم گیا ہے اور مری کی تمام رابطہ سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام جاری ہے۔ سیاحوں کا داخلہ بند ہے اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری ہیں، لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ مری میں تمام ہوٹل بھر چکے ہیں اور سیاحوں کے لیے مزید گنجائش موجود نہیں۔
بلوچستان میں شمالی اور بالائی علاقوں میں برفباری کے بعد بھی سائبرین ہواؤں کے باعث خون جما دینے والی شدید سردی برقرار ہے۔ کوئٹہ، قلات، چمن اور زیارت میں گھروں کی پائپ لائنوں میں پانی جم گیا اور شہریوں کو پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ این 50 ژوب ہائی وے کئی مقامات پر بند ہے جبکہ زیارت جانے والے سیاحوں پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ اور این ایچ اے کی جانب سے نمک پاشی اور برف ہٹانے کا کام جاری ہے۔
این ڈی ایم اے نے پہاڑی اور بالائی علاقوں میں برفانی تودے گرنے کے خطرے کے پیش نظر 23 سے 29 جنوری تک الرٹ جاری کر دیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق مغربی ہواؤں کے باعث اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں مزید برفباری متوقع ہے، خاص طور پر گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور شمالی خیبرپختونخوا میں۔ ادارے نے عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کے مطابق اتوار کی رات سے منگل تک مزید بارش اور بالائی اضلاع میں برفباری کا امکان ہے۔ چترال، دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان میں شدید بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ میدانی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش کے خطرات سے بروقت نمٹا جا سکے۔