اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی ون ڈے ٹیم کی قیادت فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کو سونپ کر ایک اہم اور جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے۔
جنوبی افریقہ کے خلاف تین ون ڈے میچوں کی سیریز کے لیے شاہین کی بطور کپتان تقرری نہ صرف ان کی ذاتی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار ہے بلکہ پاکستانی ٹیم کے مستقبل کے لیے ایک نئے ویژن کی علامت بھی ہے۔شاہین شاہ آفریدی گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے سب سے کامیاب فاسٹ بولرز میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی جارحانہ بولنگ، میدان میں جذبہ، اور ٹیم کے لیے قربانی دینے کا جذبہ انہیں محض ایک کھلاڑی نہیں بلکہ ایک قدرتی لیڈرکے طور پر پیش کرتا ہے۔ تاہم، قیادت صرف کارکردگی کا نہیں بلکہ مزاج، تدبر اور فیصلوں کے توازن کا امتحان بھی ہوتی ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کرکٹ میں قیادت اکثر دباؤ، تنقید اور سیاست کی نذر ہو جاتی ہے۔ ایسے میں شاہین کی تقرری ایک طرف نئی توانائی لائے گی، مگر دوسری جانب انہیں ایک ایسی راہ پر گامزن کرے گی جہاں تجربہ، حکمت اور بردباری ان کے سب سے بڑے ہتھیار ہوں گے۔فیصل آباد میں ہونے والی یہ سیریز شاہین کے لیے بطور کپتان پہلا امتحان ہوگی۔ ٹیم میں نئے اور سینئر کھلاڑیوں کا امتزاج، فیلڈ میں حکمتِ عملی، اور میچ کے دباؤ کو سنبھالنا ان کے لیے ایک نیا تجربہ ہوگا۔ اگر وہ اپنی قیادت میں ٹیم کو متحد رکھ پاتے ہیں، تو یہ نہ صرف پاکستان کے لیے ایک روشن آغاز ثابت ہو گا بلکہ شاہین کے کیریئر کا فیصلہ کن موڑ بھی بن سکتا ہے
یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ پی سی بی نے نوجوان قیادت پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ تاہم، ضروری ہے کہ انتظامیہ اور کوچنگ اسٹاف شاہین کو مکمل حمایت فراہم کرے۔ ایک نیا کپتان تبھی کامیاب ہو سکتا ہے جب اسے فیصلہ سازی کی آزادی، ٹیم کے اعتماد، اور بورڈ کی پشت پناہی حاصل ہو۔اختتام پر، امید کی جا سکتی ہے کہ شاہین شاہ آفریدی نہ صرف اپنی تیز رفتار گیندوں بلکہ اپنی قیادتی بصیرت سے بھی پاکستانی کرکٹ میں نئی روح پھونکیں گے۔ اگر یہ اعتماد درست سمت میں استعمال ہوا، تو ممکن ہے آنے والے برسوں میں وہ پاکستان کے مستقبل کے آل فارمیٹ کپتان کے طور پر ابھریں۔