اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)شریف خاندان نے جاتی امرا میں اتوار کے روز ایک اہم ملاقات کی، جس کا مقصد ملک میں جاری سیاسی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کرنا اور اپوزیشن جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مستقبل کے بارے میں حکمتِ عملی وضع کرنا تھا۔ اس ملاقات میں وزیرِاعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق، ملاقات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی اور اس دوران پارٹی کی آئندہ کارروائیوں، وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے مؤثر جوابی اقدامات اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں زیرِ غور سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ عمران خان کی اپنی جماعت میں موجودہ حیثیت کیا ہے اور کیا پی ٹی آئی اپنی قیادت کے فیصلوں پر انحصار جاری رکھے گی یا پھر اسٹیبلشمنٹ کے سخت ردعمل کے بعد خود مختار فیصلے کرے گی۔ اس سوال پر گفتگو کرتے ہوئے شریف خاندان نے یہ بھی دیکھا کہ سیاسی اور معاشی اقدامات میں اسٹیبلشمنٹ کا نقطہ نظر کس حد تک شامل ہے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں ان پہلوؤں کو کس طرح نافذ کر رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، مریم نواز نے پنجاب کابینہ کی حالیہ کارکردگی رپورٹ کے نتائج پر اپنے والد اور چچا کو تفصیلی بریفنگ دی، جس میں آڈٹ کے ذریعے سامنے آنے والی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے کابینہ میں ممکنہ ردوبدل، نئے وزرا کی شمولیت اور حکومت کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے کے اپنے ارادے کا بھی اظہار کیا۔ اس ملاقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شریف خاندان نہ صرف سیاسی صورتحال پر غور کر رہا ہے بلکہ حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات بھی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
یہ ملاقات ملکی سیاسی منظرنامے میں اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں کس طرح اپنی آئندہ حکمتِ عملی تیار کر رہی ہیں اور حکومت ممکنہ سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کون سے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔