اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایک تازہ تحقیق نے وزن گھٹانے کے لیے استعمال کی جانے والی مقبول ادویات کے حوالے سے تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔
تحقیق کے مطابق کچھ مخصوص ادویات بعض افراد میں ایسے آنکھ کے امراض پیدا کر سکتی ہیں جو بینائی کھو جانے تک کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس رپورٹ نے صحت کے ماہرین اور ان ادویات کے استعمال کرنے والوں دونوں کو محتاط رہنے کی ضرورت کی جانب اہم اشارہ دیا ہے۔
یہ تحقیق معروف میڈیکل جرنل JAMA** میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 15 لاکھ افراد کے طبی ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ٹائپ 2 ذیابطیس کے وہ مریض جو **سیماگلوٹائڈ (Semaglutide)** یا **ٹائرزیپیٹائڈ (Tirzepatide)** جیسی وزن کم کرنے والی ادویات استعمال کرتے ہیں، ان میں آنکھ کی ایک خطرناک بیماری میں مبتلا ہونے کے شواہد زیادہ پائے گئے۔
محققین نے خاص طور پر نان-آرٹیریٹک اینٹیریئر اِسکیمک آپٹک نیوروپیتھی‘ (NAION)** کی نشاندہی کی ہے، جو ایک نایاب مگر نہایت سنگین کیفیت ہے۔ اس کیفیت میں اچانک آپٹک نرو کی جانب خون کی روانی متاثر ہو جاتی ہے، جسے ’’آئی اسٹروک‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ مریض عموماً اس وقت اس مسئلے کا احساس کرتے ہیں جب انہیں ایک آنکھ کی بینائی میں نمایاں کمی یا مکمل طور پر ہٹ جانے کا سامنا کرنا پڑے۔
تحقیق کے مطابق NAION کا کوئی مستند علاج اب تک موجود نہیں، جبکہ سابقہ اندازوں کے مطابق یہ کیفیت ہر **10 ہزار میں سے ایک** مریض کو لاحق ہو سکتی ہے۔ تاہم تازہ تحقیق میں ٹائپ 2 ذیابطیس کے **ڈیڑھ لاکھ سے زائد** افراد کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ 35 مریض ان ادویات کے استعمال کے دوران اس کیفیت کا شکار ہوئے، جو ایک قابلِ توجہ خطرہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تحقیقات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وزن کم کرنے والی ادویات لینے والے افراد خصوصاً ذیابطیس کے مریض اپنی آنکھوں کی صحت پر خصوصی نظر رکھیں، اور کسی بھی غیر معمولی علامت کی صورت میں فوری طور پر ماہر چشم سے رجوع کریں۔ یہ تحقیق اس جانب بھی اشارہ کرتی ہے کہ ان ادویات کے ممکنہ سائیڈ ایفیکٹس پر مزید وسیع مطالعے کی ضرورت ہے۔