اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا کے شمال مشرقی علاقوں میں آنے والے شدید برفانی طوفان نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق طوفان کے باعث تقریباً 5 کروڑ 40 لاکھ افراد کے لیے الرٹ جاری کیا گیا ہے جبکہ متعدد ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔حکام کے مطابق نیویارک، نیوجرسی، ڈیلاویئر، رہوڈ آئی لینڈ، کنیٹی کٹ اور میساچوسٹس سمیت کم از کم 6 ریاستیں برفانی طوفان کی لپیٹ میں ہیں جہاں ایمرجنسی نافذ کی جا چکی ہے۔ ان علاقوں میں تیز رفتار ہواؤں کے ساتھ شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث سڑکیں بند، ٹریفک معطل اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو گئی ہیں۔
ایوی ایشن حکام کے مطابق خراب موسمی حالات کے باعث امریکا بھر میں 11 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ ہزاروں پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔ فیڈرل ایوی ایشن انتظامیہ نے نیویارک کے بڑے ہوائی اڈوں پر گراؤنڈ اسٹاپ کی وارننگ جاری کرتے ہوئے طیاروں کی آمد و رفت عارضی طور پر محدود کر دی ہے۔
نیویارک سٹی میں شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر آج رات 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک غیر ضروری سفر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ شہر کے میئر نے تمام سرکاری اسکول بند رکھنے کا حکم دیا ہے جبکہ شہریوں کو گھروں میں رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق نیویارک سٹی میں 18 سے 24 انچ جبکہ بعض علاقوں میں 28 انچ تک برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید برفباری اور تیز ہوائیں پیر کی صبح تک جاری رہ سکتی ہیں جس سے بجلی کی فراہمی اور ٹرانسپورٹ کا نظام مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خوراک، پانی اور ضروری اشیاء کا ذخیرہ رکھیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ہدایات پر عمل کریں۔
برفانی طوفان کے باعث ریسکیو ادارے ہائی الرٹ پر ہیں اور سڑکوں سے برف ہٹانے کے لیے مشینری اور عملہ تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ حالات معمول پر لائے جا سکیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ موسم کی شدت کے پیش نظر آئندہ 24 سے 48 گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔