اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کیلگری کی میونسپل الیکشن میں سخت مقابلے کے بعد کمیونٹیز فرسٹ پارٹی کی امیدوار سونیا شارپ نے میئر کے عہدے کے لیے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا باضابطہ مطالبہ کر دیا ہے۔
شارپ کو پیر کے روز ہونے والے انتخابات میں جیرومی فارکس کے ہاتھوں صرف 585 ووٹوں کے فرق سے شکست ہوئی۔ انہوں نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ یہ درخواست شہر کے چیف ریٹرننگ آفیسر کو جمع کرائی جائے گی تاکہ نتائج کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا سکے۔
سونیا شارپ نے اپنے بیان میں کہا کہ "ہر اُس کیلگری شہری کا شکریہ جس نے ووٹ ڈالنے کے لیے وقت نکالا، چاہے اُس نے کسی کو بھی ووٹ دیا ہو، آپ سب کا جذبہ جمہوریت کی اصل بنیاد ہے۔”
انتخابات کیلگری کے مطابق، اگر پہلے اور دوسرے نمبر کے امیدوار کے ووٹوں میں فرق کسی پولنگ اسٹیشن کے کل ووٹوں کے 0.5 فیصد سے کم ہو تو دوسرے نمبر کا امیدوار دوبارہ گنتی کی درخواست کر سکتا ہے۔ شارپ کے مطابق 585 ووٹوں کا فرق صرف 0.16 فیصد بنتا ہے۔
غیر سرکاری نتائج کے مطابق، فارکس نے 91,065 ووٹ حاصل کیے، جبکہ شارپ 90,480 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔ موجودہ میئر جیوٹی گوندک 71,397 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر آئیں اور پیر کی رات اپنی شکست تسلیم کر لی۔
شارپ نے طویل قطاروں اور ٹھنڈی موسم کے باوجود ووٹ ڈالنے والے شہریوں کی تعریف کی اور کہا کہ ان کی شرکت "ہمارے نظامِ حکومت کی اصل بنیاد” ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دوبارہ گنتی کی درخواست انتخابی عملے پر تنقید نہیں بلکہ شفافیت کو یقینی بنانے کا ایک منصفانہ اقدام ہے۔
شارپ نے کہا، "میں نتائج کو، چاہے جیت ہو یا ہار، تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوں کیونکہ آخر میں شہریوں کی رائے ہی مقامی حکومت میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ گنتی کے عمل مکمل ہونے تک میڈیا سے بات نہیں کریں گی۔ چیف ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے ابھی تک اس درخواست پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔