اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) پاکستان میں شادی بیاہ کے موقع پر لہلے کرتے فائیو اسٹار کھانے، قورمے، بریانیاں، ڈیزرٹس، اور رنگین سجاتی ہوئی میزیں تقریباً ایک روایت بن چکی ہیں۔
اسی لئے کسی بھی شادی کا تصور اکثر کھانے‘ کے بغیر ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ مگر اسی سماجی سوچ کے درمیان ایک ایسا شادی کا کارڈ سامنے آیا جس نے نہ صرف سب کو چونکا دیا بلکہ ہر طرف گفتگو کا موضوع بن گیا۔یہ کارڈ کسی خاص ڈیزائن، مہنگے کاغذ یا سونے کے کام کی وجہ سے نہیں، بلکہ ایک سادہ مگر اثر انگیز* جملے کی وجہ سے وائرل ہو ا، "معذرت قبول کریں، سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے کھانے کا انتظام نہیں کیا گیا۔”
سادگی کا پیغام، دکھاوے کی روایت کو چیلنج
جیسے ہی یہ کارڈ سوشل میڈیا پر شیئر ہوا، صارفین کی جانب سے اسے غیر معمولی پذیرائی ملنے لگی۔ لوگوں نے اس سادگی کو *دل جیت لینے والا قدم قرار دیا اور کہا کہ اگر ایسے خیالات کو فروغ دیا جائے تو شادیوں پر ہونے والی لاکھوں روپے کی فضول خرچیاں خودبخود کم ہوسکتی ہیں۔کئی صارفین نے لکھا کہ اس قدم نے ثابت کر دیا ہے کہ خوشی کے موقع پر دکھاوے سے زیادہ اخلاص، برکت اور سادگی اہم ہے ۔ کچھ نے اسے "تازہ ہوا کا جھونکا”، تو کچھ نے "پورے معاشرے کے لئے سبق” قرار دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کارڈ نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث بھی چھیڑ دی کیا واقعی شادیوں میں بڑے پیمانے پر کھانے، مہنگے مینیو اور بے جا رسم و رواج ضروری ہیں؟کئی لوگوں نے کہا کہ اگر ایسی سوچ عام ہوجائے تو نوجوان نسل جہیز، فنکشنز، اور مہنگے انتظامات کے دباؤ سے آزاد ہوسکتی ہے۔تجزیہ نگاروں کا بھی کہنا ہے کہ یہ قدم اس حقیقت کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ **اسلام نے شادی کو آسان بنایا ہے اور سماج نے اسے مشکل۔
یہ فیصلہ جہاں سادگی کا پیغام دیتا ہے، وہیں ایک بڑا معاشرتی سوال بھی اٹھاتا ہے کیا ہم نے خوشی کے موقع کو اپنی حیثیت سے بڑھ کر دکھانے کا ذریعہ بنا دیا ہے؟ اس وائرل کارڈ نے یہی یاد دلایا کہ شاید سادہ شادی صرف کم خرچ نہیں بلکہ زیادہ برکت والی بھی ہو سکتی ہے۔