اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے اپنے عالمی انٹرنیٹ منصوبے کو مزید وسعت دیتے ہوئے
28 نئے اسٹارلنک سیٹلائٹس کامیابی کے ساتھ نچلے زمینی مدار (Low Earth Orbit) میں روانہ کر دیے ہیں۔ یہ لانچ فالکن 9 راکٹ کے ذریعے کیلیفورنیا میں واقع وینڈنبرگ اسپیس فورس بیس کے خلائی لانچ کمپلیکس 4 ایسٹ سے مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 58 منٹ پر کی گئی۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ نیوز ریلیز کے مطابق یہ مشن مکمل طور پر کامیاب رہا اور تمام سیٹلائٹس اپنے مقررہ مدار کی جانب رواں دواں ہیں۔
اسپیس ایکس نے بتایا کہ اس مشن میں استعمال ہونے والا پہلے مرحلے کا بوسٹر اپنی 12ویں پرواز مکمل کر چکا ہے۔ یہ بوسٹر اس سے قبل NROL-126، ٹرانسپورٹر 12، اسفیئریکس، NROL-57 سمیت آٹھ مختلف اسٹارلنک مشنز میں بھی خدمات انجام دے چکا ہے، جو اسپیس ایکس کی ری یوزیبل راکٹ ٹیکنالوجی کی بڑی کامیابی تصور کی جاتی ہے۔ مرحلہ علیحدگی (Stage Separation) کے بعد پہلا سٹیج بوسٹر بحفاظت بحرالکاہل میں موجود تیرتے ہوئے پلیٹ فارم پر لینڈ کرنے میں کامیاب رہا۔
کمپنی کے مطابق لانچ کے دوران سانتا باربرا، سان لوئس اوبیسپو اور وینٹورا کاؤنٹیز کے بعض علاقوں میں رہائشیوں کو ایک یا ایک سے زائد زور دار آوازیں سنائی دینے کا امکان تھا، تاہم یہ تجربہ موسم اور دیگر قدرتی حالات پر منحصر رہا۔ اسپیس ایکس نے اس حوالے سے عوام کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا تاکہ کسی قسم کی تشویش پیدا نہ ہو۔
واضح رہے کہ اسٹارلنک منصوبے کا مقصد دنیا بھر کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ نئے سیٹلائٹس کی شمولیت سے اسپیس ایکس کے مجموعی اسٹارلنک نیٹ ورک میں مزید بہتری آئے گی اور انٹرنیٹ سروس کی رفتار اور کوریج میں اضافہ ہوگا۔ اسپیس ایکس کے مطابق آنے والے مہینوں میں بھی اسٹارلنک سیٹلائٹس کے مزید لانچز متوقع ہیں۔