اردوورلڈ کینیڈا( ویب نیوز)پنجاب کے مختلف علاقوں میں دریائے راوی، ستلج اور چناب میں شدید طغیانی اور طوفانی بارشوں کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی مچ گئی۔ چار ہزار کے قریب دیہات زیرِ آب آ گئے اور 35 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب نے لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو برباد کر دیا جبکہ کئی شہروں میں اربن فلڈنگ نے زندگی کو مفلوج بنا دیا۔
بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے انڈس واٹر کمیشن کو نئے مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروز پور کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے اندر مزید پانی داخل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں
چناب اور ستلج میں خطرناک سیلابی ریلے، ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن پنجاب کے مطابق ہیڈ سدھنائی، گنڈا سنگھ والا، ہیڈ خانکی، قادر آباد، چنیوٹ برج، ہیڈ مرالہ اور شاہدرہ سمیت کئی مقامات پر اونچے اور انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔ مختلف اضلاع میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے بستیاں ڈوب گئیں اور شہری کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔
گجرات میں 24 گھنٹوں میں ریکارڈ 577 ملی میٹر بارش کے بعد اربن فلڈنگ نے شہر کو مفلوج کر دیا، سرکاری دفاتر، عدالتیں اور بازار پانی میں ڈوب گئے۔ حافظ آباد میں سیلاب نے مچھلی فارم تباہ کر دیے، کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ قصور، چشتیاں، جھنگ، وہاڑی، ملتان، مظفرگڑھ اور لودھراں میں بھی سیلابی ریلوں نے کئی بستیاں اجاڑ دیں۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب بھر میں 46 افراد جاں بحق ہوئے، 15 لاکھ افراد کو ریسکیو کیا گیا جبکہ 10 لاکھ سے زائد مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے۔ فصلوں کی تباہی کا تخمینہ 13 لاکھ ایکڑ سے زائد لگایا گیا ہے، جس میں فیصل آباد، گوجرانوالہ اور گجرات ڈویژن سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔