اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے معاملے پر امریکی عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان حکمت عملی کے اختلافات سامنے آنے لگے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے اعلیٰ حکام اس بات پر متفق نہیں کہ ایران کے خلاف کارروائیوں کو کس حد تک بڑھایا جائے۔
رپورٹس کے مطابق ایک گروپ ایران کی عسکری صلاحیت کو مزید کمزور کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر حملوں کا حامی ہے، جبکہ دوسرے حکام طویل المدتی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط پالیسی اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
سینٹرل کمانڈ بڑے حملوں کی حامی
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر ایران کے خلاف وسیع فضائی کارروائیوں کے حامی ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے مجوزہ منصوبے کے تحت ایران کے خلاف فضائی حملے تقریباً دو ہفتوں تک جاری رکھے جا سکتے ہیں تاکہ تہران کی فوجی صلاحیت، تنصیبات اور دفاعی نظام کو مزید نقصان پہنچایا جا سکے۔
اس حکمت عملی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ مسلسل دباؤ کے ذریعے ایران کی جانب سے لاحق خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
پینٹاگون میں محتاط مؤقف
دوسری جانب جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ زیادہ محتاط حکمت عملی کے حامی قرار دیے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ان کا خیال ہے کہ امریکا کو اپنے اہم فوجی وسائل، خاص طور پر فضائی دفاعی نظام، انٹرسیپٹرز اور اسلحے کے ذخائر کو محفوظ رکھنا چاہیے۔
ان حکام کو خدشہ ہے کہ اگر موجودہ کارروائیوں کو بہت زیادہ وسعت دی گئی تو مستقبل میں کسی بڑے تنازع یا ہنگامی صورتحال کے دوران امریکا کو ضروری دفاعی وسائل کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ کو کرنا ہوگا فیصلہ
ذرائع کے مطابق ان اختلافات کے باعث اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں کو اسی سطح پر برقرار رکھا جائے یا اسے مزید وسیع کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کے فیصلے کو نہ صرف امریکا کی آئندہ پالیسی بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اردن میں امریکی اڈے پر حملے کا معاملہ
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایران کے میزائل حملوں کے بعد سخت ردعمل دینے کا عندیہ دیا ہے۔
ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا، تاہم امریکی فضائی دفاعی نظام نے چند ہی منٹوں میں میزائلوں کو ناکام بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے فوجیوں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا اور ایران کے حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا۔
خطے پر ممکنہ اثرات
دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی قیادت کے اندر سامنے آنے والے اختلافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن ایران کے خلاف آئندہ حکمت عملی کے ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے کارروائیوں میں توسیع کا فیصلہ کیا تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب محتاط حکمت عملی کے حامی حکام سمجھتے ہیں کہ محدود کارروائیاں اور سفارتی دباؤ امریکا کے طویل المدتی مفادات کے لیے زیادہ بہتر راستہ ہو سکتا ہے۔
اب سب نظریں صدر ٹرمپ کے آئندہ فیصلے پر ہیں، جو مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور مستقبل کی صورتحال پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔