اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے پیشِ نظر
ملک کی خارجہ اور تجارتی پالیسی کو نئی سمت دینے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد امریکا پر معاشی اور تجارتی انحصار کم کر کے دیگر بڑی عالمی معیشتوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔اسی حکمتِ عملی کے تحت وزیرِاعظم نے حالیہ دنوں میں بھارت اور آسٹریلیا کا دورہ کیا جہاں تجارت اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت کی گئی۔ تاہم ایران کے معاملے پر کینیڈا کے مؤقف میں تبدیلی نے اس دورے کو عالمی سطح پر خاصی توجہ کا مرکز بنا دیا۔
حکومت نے خارجہ امور کے شعبے میں انتظامی سطح پر بھی اہم تبدیلی کی ہے اور ارون تھنگاراج کو کینیڈا کے محکمہ خارجہ میں اعلیٰ انتظامی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وہ اس سے پہلے کینیڈا کے محکمہ نقل و حمل میں نائب وزیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور ماضی میں ترقیاتی تعاون کے ادارے میں بھی اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مارک کارنی کی خارجہ پالیسی زیادہ تر معاشی مفادات اور عملی حکمتِ عملی پر مبنی ہے۔ رواں برس جنوری میں عالمی اقتصادی اجلاس کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ کینیڈا کو دنیا کو ویسا ہی دیکھنا ہوگا جیسی وہ حقیقت میں ہے، نہ کہ ویسی جیسی ہم اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔