ایران پر حملوں کی حمایت، کینیڈا کو سکیورٹی اور سیاسی خطرات لاحق ہونے کا خدشہ،تجزیہ کاروں کی رائے

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی حملوں کی کینیڈا کی حمایت مستقبل میں سلامتی کے خطرات کو جنم دے سکتی ہے، کیونکہ ایران بیرونِ ملک اپنے مبینہ دشمنوں کے خلاف جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے فوجی اقدام کی حمایت ایک سیاسی جوا بھی ثابت ہو سکتی ہے جس کے مقاصد اور نتائج ابھی واضح نہیں۔

ہفتہ کے روز وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا کہ حکومت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے اور عالمی امن و سلامتی کو درپیش خطرات کے تدارک کے لیے امریکی فوجی کارروائی کی حمایت کرتی ہے۔

ایران کی قیادت سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے پاس ہے، اور ماہرین کے مطابق ماضی میں ایرانی حکومت مغربی ممالک کے خلاف اہم تنصیبات پر سائبر حملوں، آن لائن ہراسانی اور بیرونِ ملک مخالفین کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات کرتی رہی ہے۔

اوٹاوا یونیورسٹی کے شعبۂ عوامی و بین الاقوامی امور سے وابستہ پروفیسر تھامس جونو کا کہنا ہے کہ ایرانی نژاد کینیڈین کارکنوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور جمہوریت پسند عناصر کو ہدف بنائے جانے کا خدشہ موجود ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں ایرانی حکومت خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے اور ممکن ہے کہ بیرونِ ملک مخالف سرگرمیوں کو دبانے کی کوششیں تیز کر دے۔

حالیہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی عسکری طاقت کو کمزور کرنے اور اس کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خطے میں قائم امریکی اڈوں کی جانب بیلسٹک میزائل داغے، جس سے وسیع تر جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اسرائیل طویل عرصے سے ایرانی حکومت کو اپنی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتا آیا ہے۔ کینیڈین حکومت بھی اس مؤقف کی تائید کرتی رہی ہے کہ حماس، حزب اللہ اور حوثی باغی جیسے گروہ ایرانی حمایت سے اسرائیل کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔

گزشتہ برس کینیڈا کی وفاقی حکومت نے اسلامی انقلابی گارڈ کور کو فوجداری قانون کے تحت دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

ایران میں حالیہ برسوں کے دوران مہنگائی، پانی اور بجلی کی قلت کے خلاف مظاہرے بھی سامنے آئے، جو بعد ازاں بڑے عوامی احتجاج میں بدل گئے۔ مظاہرین نے سپریم لیڈر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا، جس کے جواب میں حکام نے سخت کریک ڈاؤن کیا، ہزاروں افراد ہلاک اور گرفتار کیے گئے جبکہ انٹرنیٹ اور بیرونی مواصلاتی رابطے معطل کر دیے گئے۔

تجزیہ کاروں میں اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا ایران میں حکومت کی تبدیلی ممکن ہے یا کوئی مؤثر سیاسی قوت ملک کو پُرامن جمہوری راستے پر ڈال سکتی ہے۔ ماہرہ اسٹیفنی کارون کے مطابق کسی غیر یقینی فوجی مہم کی واضح حمایت سیاسی طور پر خطرناک ہو سکتی ہے، کیونکہ اس کے نتائج سنگین بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

وزیرِاعظم مارک کارنی واضح کر چکے ہیں کہ کینیڈا اس تنازع میں براہِ راست فوجی کردار ادا نہیں کرے گا۔ ایشیا پیسیفک فاؤنڈیشن سے وابستہ ساجن گوہل کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں حکومتوں کی تبدیلی کی کوششیں، چاہے افغانستان میں ہوں یا عراق میں، متوقع نتائج نہیں دے سکیں۔ ان کے مطابق آئندہ ہفتوں میں عالمی سلامتی، تیل کی قیمتوں اور تجارتی بہاؤ پر اثرات زیادہ واضح ہوں گے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں