اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے جہاں ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم نے صورتِ حال کو نہایت سنگین بنا دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حالیہ امریکی و اسرائیلی بحری اور فضائی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سپریم لیڈر ہفتے کے روز ہونے والے حملوں کے دوران اپنے دفتر میں موجود تھے جہاں انہیں نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے سپریم لیڈر کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے ملک بھر میں 7 روزہ عام تعطیل اور 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی بیٹی، نواسے، داماد اور بہو بھی شہید ہوگئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ پر درجنوں بم گرائے گئے جس کے نتیجے میں درجنوں ساتھی بھی جاں بحق ہوئے۔یاد رہے کہ خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر تھے ، ان کی شہادت کو ایران کی حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ وہاں قائم امریکی بحری اڈے سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔ قطر نے اپنے دفاعی نظام کے ذریعے فضا میں آنے والے ایرانی میزائلوں کو تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات نے خطے میں کشیدگی کے باعث اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملوں کے وقت ایرانی سپریم لیڈر زیر زمین بنکر میں موجود تھے اور ان کے کمپاؤنڈ پر تقریباً 30 بم گرائے گئے۔ اسرائیلی حکام کے حوالے سے برطانوی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا کہ خامنہ ای کی لاش مل گئی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر اب زندہ نہیں رہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر اور سینئر جوہری حکام بھی مارے گئے ہیں اور ایران کے خلاف کارروائی ضرورت پڑنے تک جاری رہے گی۔
خبر ایجنسیوں کے مطابق حالیہ حملوں میں ایران کے وزیر دفاع امیر ناصر زادہ اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور بھی شہید ہوگئے، جبکہ مجموعی طور پر 201 ایرانی شہری جاں بحق اور 747 زخمی ہوئے ہیں۔ ایران نے ان حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔خطے میں تیزی سے بگڑتی صورتِ حال کے باعث عالمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو یہ تنازع وسیع تر جنگ کی شکل اختیار کرسکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔
9