ٹی20 ورلڈ کپ بحران کا شکار،بنگلہ دیش کا بھارت جانے سے صاف انکار

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بنگلہ دیش نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو دوٹوک انداز میں آگاہ کر دیا ہے

کہ وہ کھلاڑیوں کی سیکیورٹی خدشات کے باعث ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے اپنی ٹیم بھارت نہیں بھیجے گا۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے پر اس کے مؤقف میں کسی قسم کی نرمی نہیں کی جائے گی۔بی سی بی کے مطابق اس حوالے سے آئی سی سی کے ساتھ ایک اہم ویڈیو کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں بنگلہ دیشی حکام نے اپنا فیصلہ دہراتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بنگلہ دیش کے تمام میچز بھارت کے بجائے کسی دوسرے ملک، بالخصوص سری لنکا، منتقل کیے جائیں۔
بی سی بی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بورڈ نے کھلاڑیوں، ٹیم آفیشلز اور معاون عملے کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے بھارت نہ جانے کے فیصلے پر اپنی پوزیشن کا اعادہ کیا ہے۔ بیان کے مطابق آئی سی سی نے ٹورنامنٹ کے پہلے سے طے شدہ شیڈول کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیش سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی، تاہم بی سی بی نے اپنا مؤقف تبدیل کرنے سے انکار کر دیا۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ کسی قابلِ قبول حل تک پہنچا جا سکے، لیکن بورڈ کسی بھی صورت اپنے کھلاڑیوں کی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ دوسری جانب آئی سی سی کی طرف سے اس ملاقات یا بنگلہ دیش کے فیصلے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش نے 4 جنوری کو اس وقت بھارت نہ جانے کا اعلان کیا تھا جب انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو بے دخل کیا گیا۔ اسی اعلان کے ساتھ بنگلہ دیش نے آئی سی سی سے باضابطہ درخواست کی تھی کہ اس کے ٹی20 ورلڈ کپ میچز بھارت سے منتقل کر کے سری لنکا میں رکھے جائیں۔
واضح رہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ 2026 بھارت اور سری لنکا میں مشترکہ طور پر منعقد ہونا ہے، جس کا آغاز 7 فروری 2026 سے ہوگا۔ شیڈول کے مطابق بنگلہ دیش کے تمام گروپ میچز بھارت میں رکھے گئے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش کی ٹی20 ٹیم، جو اس وقت لٹن داس کی قیادت میں آئی سی سی درجہ بندی میں نویں نمبر پر ہے، اب تک ہونے والے تمام ٹی20 ورلڈ کپ مقابلوں میں حصہ لے چکی ہے، تاہم تاحال سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہیں کر سکی۔
سیاسی پس منظر میں دیکھا جائے تو بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں کشیدگی اگست 2024 میں اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب طلبہ تحریک کے ملک گیر احتجاج کے نتیجے میں اس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جو بھارت کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی تھیں۔
اس کے علاوہ بنگلہ دیش کی طلبہ تحریک کے سرکردہ رہنما شریف عثمان ہادی کے حالیہ قتل اور ملزمان کے بھارت فرار ہونے کے انکشافات نے بھی عوامی سطح پر بھارت کے خلاف غصے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ بنگلہ دیش کے نوبل انعام یافتہ حکمران محمد یونس بھی اس الزام کا اظہار کر چکے ہیں کہ بھارت ملک کے اندرونی معاملات میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔دوسری جانب بھارت نے بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کے الزامات عائد کرتے ہوئے سخت مذمت کی ہے اور بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ بیان بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ماہرین کے مطابق ان سیاسی اور سیکیورٹی تناؤ کے اثرات اب کرکٹ جیسے عالمی کھیل پر بھی نمایاں طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں