اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بنگلا دیش کے اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرل نے واضح طور پر کہا ہے کہ
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے معاملے پر بھارت کے کہنے پر آئی سی سی کا کسی بھی قسم کا دباؤ بنگلا دیش قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل بھارتی دباؤ کے آگے جھکتی ہے اور بنگلا دیش پر غیر منطقی دباؤ ڈالا جاتا ہے تو ایسی صورت حال ہرگز قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
ایک بیان میں آصف نذرل نے کہا کہ بھارت کے مطالبات کی بنیاد پر بنگلا دیش کے خلاف فیصلے مسلط نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بنگلا دیش کا مؤقف اصولی ہے اور اس میں کسی قسم کی لچک یا تبدیلی نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیل کے معاملات سیاسی یا غیر کھیلوں کے دباؤ سے بالاتر ہونے چاہئیں۔
بنگلا دیشی اسپورٹس ایڈوائزر نے بھارت میں میچز کھیلنے سے متعلق مؤقف پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے بنگلا دیش کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کی سلامتی اور شفاف انتظامات اولین ترجیح ہیں اور انہی بنیادوں پر فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
آصف نذرل نے ان خبروں کو بھی سختی سے مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اطلاعات بے بنیاد ہیں اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بنگلا دیش نے صرف حقیقی اور انتظامی وجوہات کی بنیاد پر وینیو تبدیل کرنے کی بات کی ہے، نہ کہ ٹورنامنٹ سے دستبرداری یا کسی اور ٹیم کی شمولیت کے لیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بنگلا دیش عالمی کرکٹ میں اپنا کردار ذمہ داری سے ادا کرتا رہے گا اور آئی سی سی سے بھی توقع ہے کہ وہ تمام رکن ممالک کے ساتھ مساوی اور غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرے گی۔ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کا مؤقف ہے کہ کسی ایک ملک کے دباؤ پر فیصلے کرنا عالمی کرکٹ کے مفاد میں نہیں ہوگا۔