اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان میں کاروباری ماحول کو درپیش سنگین چیلنجز کے باعث بعض کمپنیاں ملک چھوڑ رہی ہیں، اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ زیادہ ٹیکسوں اور توانائی کی بلند قیمتوں نے کاروبار کو شدید دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مسائل سے آنکھیں چرانے کے بجائے انہیں تسلیم کر کے عملی اصلاحات کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔
اسلام آباد میں پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کا واحد راستہ گہرے اور مستقل اصلاحاتی اقدامات ہیں۔ حکومت معیشت کی بہتری کے لیے متعدد سطحوں پر کام کر رہی ہے، تاہم نجی شعبے کو بھی آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ کسی بھی مضبوط معیشت کی بنیاد متحرک نجی سرمایہ کاری پر ہوتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے نکال کر فنانس ڈویژن کے سپرد کیا گیا ہے تاکہ پالیسی سازی اور ٹیکس وصولی کے عمل کو ایک دوسرے سے الگ رکھا جا سکے۔ ان کے مطابق ایف بی آر کی بنیادی ذمہ داری ٹیکس وصولی ہے، جبکہ پالیسی سازی کا کام فنانس ڈویژن انجام دے گا، جس سے نظام میں شفافیت اور کارکردگی بہتر ہوگی۔ وزیرِ خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ رواں سال جون تک تمام سرکاری ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے کی جائیں گی اور غیر بینکنگ آبادی کو باضابطہ مالیاتی نظام میں شامل کرنے کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔
ترسیلاتِ زر کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے کہا کہ اگرچہ اس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں، تاہم گزشتہ سال ملک میں تقریباً 38 ارب ڈالر کی ترسیلات آئیں جبکہ رواں سال یہ رقم بڑھ کر 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری لاگت کم کرنے کے لیے ڈیوٹیز کو معقول بنانا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق 78 سالہ تاریخ میں پہلی بار ٹیرف اصلاحات کے تحت خام مال پر ڈیوٹیز میں کمی کی جا رہی ہے، جس سے صنعتی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اصلاحات پاکستان کے لیے ایک ممکنہ “ایسٹ ایشیا مومنٹ” ثابت ہو سکتی ہیں، مگر قرضوں میں کمی خودبخود نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے حکومتی فیصلے اور اقدامات شامل ہیں۔
انہوں نے کھل کر اعتراف کیا کہ کچھ کمپنیاں پاکستان سے جا رہی ہیں اور اگر ٹیکس اور بجلی و گیس کی قیمتیں زیادہ ہیں تو یہ حقیقی مسائل ہیں جن کا حل تلاش کرنا ہوگا، نہ کہ انکار۔
نجکاری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے بھی دلچسپی لی ہے اور 24 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق سرکاری اداروں میں سالانہ تقریباً ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہو رہا تھا، اسی لیے یوٹیلیٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو جیسے ادارے بند کیے گئے، جہاں سبسڈی کے نام پر بدعنوانی ہو رہی تھی۔
اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں اور حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کے ماڈل کو فروغ دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں صلاحیتوں کی کمی نہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام اور سرمائے کو درست سمت میں متحرک کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نجکاری کوئی نظریاتی ایجنڈا نہیں بلکہ مارکیٹ کی خرابیوں کو درست کرنے کا ایک عملی ذریعہ ہے، جبکہ معاشی ترقی کے عمل میں خواتین کی شمولیت بھی نہایت ضروری ہے۔