اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے دنیا بھر میں جذباتی ردعمل کو جنم دیا
مگر اسی ویڈیو کے تناظر میں سامنے آنے والے ایک پیغام نے عالمی برادری کے رویّے پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔ Embassy of Cuba in France کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو اور بیان نے انسانی ہمدردی کے دوہرے معیار پر بحث چھیڑ دی ہے۔
بندر کی ویڈیو نے دنیا کو رُلا دیا
چند روز قبل ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی تھی جس میں جاپان کے ایک چڑیا گھر میں موجود ننھا بندر اپنی ماں سے جدا ہونے کے بعد ایک کھلونا بندر کو سینے سے لگائے بیٹھا دکھائی دیتا ہے۔ ماں کی ممتا سے محروم یہ جانور کھلونے کو یوں تھامے ہوئے تھا جیسے وہی اس کی ماں ہو۔اس منظر نے دنیا بھر کے صارفین کو آبدیدہ کر دیا۔ مختلف ممالک سے ہزاروں افراد نے سوشل میڈیا پر افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا، اور اس ویڈیو کو ’’دل توڑ دینے والا‘‘ قرار دیا گیا
Le monde s’émeut devant le singe «Punch» qui serre une peluche, tout en ignorant la souffrance de milliers d’enfants #orphelins à #Gaza, dont toute la famille a été assassinée par Israël.
L’empathie sélective est une honte.#FreePalestine #StopGenocide #Punch pic.twitter.com/pQFKZ2njuy
— Ambassade de Cuba en France (@EmbaCubaFrancia) February 24, 2026
تاہم فرانس میں کیوبا کے سفارتخانے نے اسی جذباتی لہر کے پس منظر میں ایک اور منظر دنیا کے سامنے رکھا۔ ویڈیو کے دوسرے حصے میں غزہ کی ایک معصوم بچی کو دکھایا گیا ہے جو اسرائیلی بمباری کے بعد ملبے کے ڈھیر پر کھڑی اپنی گڑیا کو سینے سے لگائے خاموشی سے درد سہہ رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق اس بچی نے حالیہ حملوں میں اپنا گھر اور اہلِ خانہ کھو دیا۔ ویڈیو میں اس کے چہرے پر بے بسی اور صدمے کے آثار نمایاں ہیں، مگر اس منظر پر عالمی سطح پر وہ ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا جو بندر کی ویڈیو پر سامنے آیا تھا۔
Embassy of Cuba in France نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ دنیا ایک بندر کے کھلونے سے لپٹنے پر تو رو پڑتی ہے، لیکن غزہ میں ہزاروں یتیم بچوں کے دکھ کو نظر انداز کر دیتی ہے، جن کے خاندان اسرائیلی حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔
سفارتخانے نے اس رویّے کو ’’منتخب ہمدردی‘‘ (Selective Empathy) قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانیت کے دعوؤں اور عملی رویّوں میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر جانور کے درد پر آنسو بہائے جا سکتے ہیں تو معصوم انسانوں، خصوصاً بچوں، کے دکھ پر خاموشی کیوں؟ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ صارفین نے کیوبا سفارتخانے کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو انسانی جانوں کے معاملے میں یکساں حساسیت دکھانی چاہیے، جبکہ بعض افراد نے اس تقابل کو نامناسب قرار دیا۔