اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای پر حملے کے بعد اسرائیل کے خلاف باقاعدہ کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل پر متعدد میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایرانی سپریم لیڈر پر حملے کے “انتقام” کے طور پر کی گئی۔حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی شہر Haifa میں میزائل ڈیفنس سسٹم کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی حملوں کے تسلسل اور خطے میں رہنماؤں، کارکنوں اور شہریوں کی ہلاکتوں نے تنظیم کو اپنے دفاع اور “مناسب وقت اور مناسب مقام” پر جواب دینے کا حق دیا ہے۔تنظیم نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنانی مقبوضہ علاقوں سے نکل جائے، بصورت دیگر مزاحمت جاری رہے گی۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد حزب اللہ کی یہ پہلی براہِ راست میزائل اور ڈرون کارروائی ہے، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے داغے گئے بیشتر پروجیکٹائلز کو فضا ہی میں ناکارہ بنا دیا گیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق لبنان کے دارالحکومت Beirut میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر بمباری کی گئی ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دے گی اور اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان براہِ راست تصادم کی صورت میں پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔تاحال جانی و مالی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں، جبکہ دونوں جانب سے بیانات اور دعوؤں کا سلسلہ جاری ہے۔