اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امن و سلامتی کے قیام کے لیے دنیا کو تصادم کے بجائے مذاکرات، افہام و تفہیم اور شراکت داری کے راستے کو اپنانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی جیسے بزدلانہ اقدامات پاکستان کے قومی عزم و حوصلے کو کمزور نہیں کر سکتے۔
اسلام آباد میں منعقدہ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشت گردی آج کے دور کا سب سے بڑا عالمی چیلنج بن چکی ہے، اور پاکستان نے اس لعنت کے خلاف ہمیشہ سرگرم اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی قربانیوں سے دہشت گردی کے خلاف بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم عالمی برادری کو بھی اس مشترکہ خطرے سے نمٹنے کے لیے متحدہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہے، خواہ وہ کسی بھی ملک یا خطے میں ہو۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ "چاہے دہشت گردی اسلام آباد میں ہو جیسا کہ کل ہوئی، یا وانا میں جیسی اندوہناک کارروائی دیکھی گئی، یہ سب قابلِ مذمت ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران ہونے والے دہشت گرد حملوں میں پندرہ قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، جو قومی سانحہ ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ دہشت گردی کا مقصد ریاستوں کو غیر مستحکم کرنا اور عوام میں خوف پیدا کرنا ہے، مگر پاکستانی قوم نے ہمیشہ اتحاد اور استقامت سے ایسے عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن کے لیے دنیا کو باہمی اعتماد، تعاون اور مکالمے کو فروغ دینا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور مستحکم دنیا فراہم کی جا سکے۔