اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے تحت 1 ارب ڈالر اور موسمیاتی فنڈ (آر ایس ایف) کے تحت 21 کروڑ ڈالر تک کی مالی معاونت حاصل ہو گی۔
یہ رقم آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری اور ای ایف ایف پروگرام کے اگلے جائزے کے بعد جاری کی جائے گی، جس سے دونوں پروگرامز کے تحت مجموعی رقم 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
آئی ایم ایف کے اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت نے مالی خسارہ کم کرنے اور ٹیکس نظام بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ غریب عوام کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں توسیع کی گئی ہے اور مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے امداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ معیشت میں بہتری کے آثار موجود ہیں، مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کنٹرول میں ہیں، تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی معیشت کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے مہنگائی کنٹرول کے لیے سخت پالیسی جاری رکھنے اور ضرورت پڑنے پر شرح سود میں اضافے کی تیاری کا بھی اعلان کیا ہے۔
حکومت نے بجلی کے شعبے میں مقابلے کی مارکیٹ قائم کرنے، قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی تیز کرنے، اور گرڈ سسٹم کو مستحکم و پائیدار بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، پرائمری سرپلس کے ہدف 1.2 فیصد کو پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی اور اگلے مالی سال میں اسے 2 فیصد تک بڑھانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ حکومت گورننس بہتر بنانے، کرپشن کم کرنے، نجی شعبے کو فروغ دینے، سرمایہ کاری بڑھانے اور سرکاری اداروں میں اصلاحات جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔ آئی ایم ایف اور پاکستان کی معاشی ٹیم نے محتاط مالی پالیسی، عوامی قرضہ کم کرنے، طویل مدتی مالی حکمت عملی، ٹیکس نیٹ بڑھانے اور اخراجات میں نظم و ضبط لانے پر اتفاق کیا ہے، اور آئندہ مالی سال سے صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے اخراجات میں اضافے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
یہ معاہدہ پاکستان کی معیشت میں استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے اہم قدم سمجھا جا رہا ہے