اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ دراصل ایک منظم منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد اسرائیل کے اثر و رسوخ کو پاکستان کی سرحدوں تک وسعت دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے معاہدے پر رضامندی ظاہر کی تھی، اس کے باوجود اس پر جنگ مسلط کی گئی، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ اصل مقاصد کچھ اور ہیں۔
ایکس پر جاری اپنے بیان میں وزیر دفاع نے کہا کہ صیہونیت انسانیت کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کے قیام سے لے کر آج تک عالم اسلام کو جن جنگوں اور بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا، ان کے پس منظر میں صیہونی سوچ اور ریاست کا کردار کسی نہ کسی صورت موجود رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک صدی کے دوران عالمی معاشی نظام پر بھی صیہونی اثرات غالب رہے ہیں اور بڑی طاقتیں اس دباؤ سے آزاد نہیں رہ سکیں۔
خواجہ محمد آصف نے ا پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وطن عزیز ایک ایٹمی قوت ہے، اور یہ مقام بے شمار قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں سے ملک کی خودمختاری کو ناقابل تسخیر بنایا ہے۔
انہوں نے شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی بدولت پاکستان آج مضبوط اور خودمختار ریاست کے طور پر کھڑا ہے۔
انہوں نے ایٹمی پروگرام میں کردار ادا کرنے والے تمام سائنسدانوں اور متعلقہ شخصیات کے لیے دعائے مغفرت کی اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جرات کو سراہا جنہوں نے ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کیا۔
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان، ایران اور ہندوستان کے بعض عناصر کا مشترکہ ایجنڈا پاکستان کو کمزور کرنا ہے تاکہ اس کی سرحدیں غیر محفوظ ہو جائیں اور ملک چاروں طرف سے دباؤ میں آ جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایک دست نگر ریاست بنانے کی سازشوں کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچیس کروڑ پاکستانیوں کو، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مکتبہ فکر سے ہو، اختلافات سے بالاتر ہو کر ان خطرات کا ادراک کرنا ہوگا۔