حکومتِ البرٹا کا کیلگری کی واٹر مین خرابیوں پر جامع جائزہ، دو دہائیوں کا ریکارڈ طلب

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)حکومتِ البرٹا نے کیلگری کے پانی کے مرکزی نظام میں بار بار آنے والی خرابیوں کے پس منظر میں ایک باضابطہ اور وسیع جائزہ شروع کر دیا ہے، جس کے تحت صوبائی حکام نے شہر سے گزشتہ بیس برسوں پر محیط دستاویزات دو ہفتوں کے اندر فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا کیلگری کے 16 لاکھ سے زائد شہریوں کے لیے پانی کی فراہمی کا نظام محفوظ، قابلِ اعتماد اور پائیدار ہے یا نہیں۔

بلدیاتی امور کے وزیر ڈین ولیمز نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پر جاری ایک خط میں میئر جیرومی فارکس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ شہر حالیہ بیئر اسپاؤ ساؤتھ فیڈر مین کی خرابی کو درست کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہے، تاہم بطور نگران قانونی ادارہ صوبائی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مداخلت کرے اور صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے۔ ولیمز نے خط میں اس خدشے کا اظہار کیا کہ مسلسل خرابیوں کے باعث نہ صرف بلدیاتی خدمات کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے بلکہ شہریوں کا اعتماد بھی مجروح ہو رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کیلگری اور آس پاس کی وہ بلدیات جو شہر کے پانی پر انحصار کرتی ہیں، بجا طور پر اس بات پر فکر مند ہیں کہ کہیں ایسا واقعہ دوبارہ پیش نہ آ جائے۔ اسی لیے صوبہ چاہتا ہے کہ 2004 سے اب تک کے کونسل اور کمیٹی اجلاسوں کے ریکارڈ، بشمول غیر عوامی اجلاسوں کی دستاویزات، اعداد و شمار، میڈیا رپورٹس اور رسک مینجمنٹ و نگرانی سے متعلق رپورٹس فراہم کی جائیں۔ وزیر نے کہا کہ اگر کوئی دستاویز دستیاب نہ ہو تو اس کی وجہ بھی تحریری طور پر بتائی جائے۔

میئر فارکس نے اس مطالبے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس عمل کو شہر کے پانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق صوبہ پہلے ہی بحران کے دوران شہر کے ساتھ رابطے میں رہا ہے اور آئندہ بھی مدد فراہم کر سکتا ہے۔

بیئر اسپاؤ فیڈر مین شہر اور گردونواح میں استعمال ہونے والے صاف شدہ پانی کا تقریباً 60 فیصد فراہم کرتا ہے۔ یہ لائن دو سال سے بھی کم عرصے میں دو مرتبہ پھٹ چکی ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کو پانی کے سخت استعمالی قواعد پر عمل کرنا پڑا۔ تازہ ترین خرابی گزشتہ ماہ کے آخر میں سامنے آئی، جس کے بعد سے شہریوں سے کم شاور لینے اور بیت الخلا کے استعمال میں کمی کی اپیل کی جا رہی ہے۔

گزشتہ ہفتے ایک آزاد پینل کی رپورٹ میں ان خرابیوں کی بنیادی وجہ دہائیوں پر محیط کم سرمایہ کاری کو قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 2004 میں ہونے والی ایک سابقہ خرابی کے بعد شہر کے دیگر پائپوں کی حالت پر سنجیدہ توجہ دی جانی چاہیے تھی، مگر کئی معائنے اور مرمتی منصوبے دیگر ترجیحات کے باعث مؤخر ہوتے رہے۔ پینل نے یہ بھی کہا کہ کسی ایک کونسل یا فرد کو قصوروار ٹھہرانا درست نہیں کیونکہ صورتحال کی سنگینی کسی کو مکمل طور پر معلوم نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں :شہریوں کی بچت سے کیلگری پانی کے خطرے سے عارضی طور پر باہر،میئر کا اظہار مسرت

اس معاملے نے سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا ہے۔ اپوزیشن این ڈی پی کے رہنما اور سابق میئر نہید نینشی، جو 2010 سے 2021 تک اس عہدے پر فائز رہے، کو حکمران یو سی پی کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ 2013 کے شدید سیلاب کے بعد پانی کے نظام کی وسیع جانچ ہونی چاہیے تھی۔ نینشی نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں “بے بنیاد” قرار دیا اور کہا کہ حکومت قیادت دکھانے کے بجائے شہر کو غیر ضروری کاغذی کارروائی میں الجھا رہی ہے۔

ادھر شہر کے انفراسٹرکچر سروسز کے جنرل منیجر مائیکل تھامسن کے مطابق فیڈر مین کی مرمت مکمل ہو چکی ہے اور پانی پینے کے لیے محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم لائن کو آہستہ آہستہ دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے، اور اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو ہفتے کے اختتام تک پابندیاں ختم کی جا سکتی ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے خبردار کیا کہ احتیاط ناگزیر ہے کیونکہ اس مرحلے پر کسی نئی خرابی کی مکمل ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں