امریکی صدر کی ممبران مسلم ارکان نگریس الہان عمر اور رشیدہ طلیب کو ملک سے نکالنے کی دھمکی

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم امریکی ارکانِ کانگریس الہان عمر اور رشیدہ طلیب کے خلاف

سخت اور متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں کو امریکا سے نکال دینا چاہیے اور انہیں ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دینا چاہیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک تقریب سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الہان عمر اور رشیدہ طلیب پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے دونوں ارکانِ کانگریس کو ’’پاگل‘‘ اور ’’دماغی طور پر بیمار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکا کی پالیسیوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جو لوگ امریکا کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں، انہیں ملک چھوڑ دینا چاہیے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب منگل کے روز کانگریس کے اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کے خطاب پر دونوں مسلم ارکان نے احتجاج کیا تھا اور ان کی امیگریشن پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ الہان عمر اور رشیدہ طلیب نے خاص طور پر تارکینِ وطن سے متعلق سخت اقدامات اور سرحدی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے تھے۔صدر کے بیان کے بعد امریکی سیاست میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے متعدد رہنماؤں نے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منتخب نمائندوں کو ملک بدر کرنے کی بات کرنا آئینی اصولوں کے خلاف ہے اور اس سے سیاسی تقسیم میں اضافہ ہوگا۔
دوسری جانب امریکی مسلم تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے بھی صدر کے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات تعصب اور نفرت کو ہوا دیتے ہیں اور امریکا جیسے کثیرالثقافتی معاشرے میں ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہیں۔

تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ منتخب عوامی نمائندوں کے خلاف اس نوعیت کی زبان نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ جمہوری روایات اور آئینی آزادیوں کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی حملوں اور مذہبی بنیادوں پر تنقید میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔

الہان عمر اور رشیدہ طلیب امریکی کانگریس کی پہلی مسلم خواتین ارکان میں شامل ہیں اور دونوں کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے۔ دونوں ارکان ماضی میں بھی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں، خصوصاً امیگریشن، خارجہ امور اور مشرقِ وسطیٰ سے متعلق فیصلوں پر کھل کر تنقید کرتی رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کا حالیہ بیان آئندہ انتخابی ماحول میں سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ امریکا میں پہلے ہی امیگریشن، مذہبی آزادی اور نسلی مساوات جیسے موضوعات پر شدید سیاسی تقسیم پائی جاتی ہے، اور اس قسم کے بیانات اس خلیج کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔

فی الحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس بیان پر مزید وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم سیاسی حلقوں میں اس پر بحث اور ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں