ٹورنٹو میں یوم القدس ریلی روکنے کی کوشش، منتظمین کا پروگرام جاری رکھنے کا اعلان

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں یوم القدس کے موقع پر ہونے والی ریلی کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ ہفتے کے روز ہونے والا پروگرام اپنے مقررہ وقت پر ہی منعقد ہوگا، حالانکہ صوبہ اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے اسے روکنے کے لیے عدالت سے حکم امتناع حاصل کرنے کی کوشش کا اعلان کیا ہے۔

ریلی کے منتظمین کی نمائندگی کرنے والے وکیل اسٹیفن ایلس نے جمعہ کی شام ایک برقی پیغام میں بتایا کہ انہیں اب تک کسی عدالتی درخواست یا حکم امتناع سے متعلق کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ عدالت میں فوری نوعیت کی درخواستیں سننے والے عملے نے بھی بتایا کہ ان کے پاس اس حوالے سے کوئی درخواست جمع نہیں کرائی گئی۔

اس سے قبل وزیرِ اعلیٰ ڈگ فورڈ نے ایک سماجی پیغام میں کہا تھا کہ انہوں نے صوبائی اٹارنی جنرل ڈگ ڈاؤنی کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس سالانہ ریلی کو روکنے کے لیے عدالت سے رجوع کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ نفرت، تشدد اور دھمکیوں کے لیے کینیڈا کی سڑکوں پر کوئی جگہ نہیں اور حکومت ایسے اقدامات کے خلاف ہر ممکن کارروائی کرے گی۔

یہ معاملہ اس وقت مزید نمایاں ہوا جب ٹورنٹو کے دو شہری نمائندوں بریڈ بریڈفورڈ اور جیمز پاسٹرناک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے شہر کے وکلا سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ریلی کو روکنے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کریں۔ دونوں نمائندوں نے شہر کی میئر اولیویا چاؤ سے بھی اس اجتماع کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا۔

یوم القدس ہر سال ماہِ رمضان کے آخری جمعہ کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کا آغاز انیس سو اناسی میں ایران کے مذہبی رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کیا تھا۔ اس موقع پر دنیا کے مختلف شہروں میں فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت کے لیے اجتماعات اور ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔

ٹورنٹو میں یہ ریلی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے منعقد ہو رہی ہے اور اس میں مختلف کمیونٹی تنظیمیں، کارکنان اور بعض اوقات مخالف مظاہرین بھی شریک ہوتے ہیں۔ تاہم بعض مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس مارچ کے دوران نفرت انگیز نعروں اور یہودی مخالف جذبات کو ہوا دی جاتی ہے۔

اس حوالے سے اسرائیل اور یہودی امور سے متعلق ایک تنظیم کے صوبائی نمائندے نے حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکم امتناع کی کوشش اس خطرے کی سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے جس کا سامنا کمیونٹی کو ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب شہری آزادیوں کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے وزیرِ اعلیٰ کے اعلان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق اگر کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا تشدد کا خطرہ ہو تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس پہلے ہی کارروائی کے اختیارات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی احتجاج کو شروع ہونے سے پہلے روکنے کی کوشش اظہارِ رائے اور پرامن اجتماع کی بنیادی آزادیوں کے لیے خطرناک قدم ہو سکتا ہے۔

ادھر ٹورنٹو پولیس نے بھی سکیورٹی انتظامات کا خاکہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریلی میں شریک افراد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پرامن اور قانون کے مطابق احتجاج کریں۔ حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں علاقے میں چند عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آئے ہیں، اس لیے سکیورٹی کو مزید سخت کیا گیا ہے۔یوم القدس کی یہ ریلی ہفتے کے روز سہ پہر تین بجے شروع ہونے والی ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں