ارد ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے جنین میں اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں دو نہتے فلسطینی نوجوان شہید ہوگئے۔
فلسطینی میڈیا کے مطابق شہید نوجوانوں کی شناخت 26 سالہ محمود قاسم عبداللہ اور 37 سالہ یوسف عساسہ کے نام سے ہوئی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی اہلکار سرچ آپریشن کے لیے ایک عمارت پر پہنچے تھے، جہاں دو نوجوان ہاتھ اُٹھائے باہر آئے اور ان کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔ اہلکاروں نے انہیں زمین پر بٹھایا اور بعد ازاں گیراج میں جانے کا کہا۔ جیسے ہی نوجوان اندر جانے کے لیے مڑے، گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے فضا گونج اُٹھی اور دونوں نوجوان موقع پر شہید ہوگئے۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس کے بعد اسرائیلی اسٹیٹ اٹارنی نے اہلکار کے خلاف فوجداری تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ویڈیو سامنے آنے پر فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ نے اسرائیل سے مغربی کنارے میں پرتشدد کارروائیاں روکنے، یہودی بستیوں کی توسیع ختم کرنے اور فلسطینی اتھارٹی کے روکے گئے ٹیکس فنڈز بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ شہید نوجوان مشتبہ دہشت گردی میں ملوث تھے اور اسلامک جہاد سے منسلک تھے، جبکہ فلسطینی اتھارٹی اور اقوام متحدہ نے اس واقعے کو جنگی جرم قرار دیا اور عالمی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی وزیر قومی سلامتی نے ملوث اہلکاروں کی حمایت کی اور کہا کہ دہشت گردوں کو ہٹانا ضروری ہے۔ خیال رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں شدت آئی ہے، جس میں اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔