اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) برطانوی نشریاتی ادارہ بی بی سی، جو کئی دہائیوں سے آزادیٔ صحافت اور غیر جانب دار رپورٹنگ کی علامت سمجھا جاتا ہے، ایک مرتبہ پھر شدید بحران کا شکار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متنازعہ ڈاکیومنٹری میں ایڈیٹنگ کے تنازع نے ادارے کی ساکھ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی اور چیف ایگزیکٹو ڈیبورا ٹرنز کے استعفے محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ایک بڑی اخلاقی شکست کی علامت ہیں۔ جس ادارے کو دنیا سچائی اور توازن کی مثال سمجھتی تھی، وہ آج سیاسی دباؤ اور ادارتی مداخلت کے الزامات کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔
ڈاکیومنٹری میں 6 جنوری 2021 کی ٹرمپ تقریر کو اس انداز میں پیش کیا گیا کہ جیسے وہ اپنے حامیوں کو کیپٹل ہل پر دھاوا بولنے پر اکسا رہے ہوں۔ ایڈیٹنگ کا یہ زاویہ بظاہر معمولی لگتا ہے، مگر انتخابی ہفتے کے دوران اس کی نشریات نے ایک عالمی ادارے کے پیشہ ورانہ معیار پر سوال اٹھا دیے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ بی بی سی کو سیاسی جانبداری کے الزام کا سامنا ہو۔ دی ٹیلی گراف کی لیک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ادارے نے غزہ جنگ کی کوریج میں اسرائیل مخالف تعصب دکھایا۔ دوسری طرف ٹرانس ایشوز پر ادارتی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی بی سی اب اپنے سنہری اصول — غیر جانب داری، سچائی اور عوامی مفاد” — سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ادارہ اپنے ناظرین اور صحافیوں کا اعتماد بحال نہیں کرتا تو یہ بحران محض استعفوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ برطانوی میڈیا کی ساکھ کے لیے ایک گہرا دھچکا ثابت ہو گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر "دی ٹیلی گراف” کا شکریہ ادا کر کے واضح کر دیا ہے کہ وہ بی بی سی کو “پروپیگنڈا مشین” سمجھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا بی بی سی اپنے اندر احتساب کی وہ جرات رکھتا ہے جو اسے ایک بار پھر عالمی صحافتی سچائی کا معیار بنا سکے؟