اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے اس خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں سے واپسی ہمیشہ لاشوں، کھنڈرات اور نسلوں پر محیط عدم استحکام کی صورت میں ہوتی ہے۔
برطانوی میڈیا اور مغربی فوجی ذرائع کی رپورٹس اگرچہ باضابطہ اعلان نہیں، مگر وہ خطرے کی وہ واضح گھنٹیاں ہیں جنہیں نظرانداز کرنا خود فریبی کے مترادف ہوگا۔ ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کی خبریں محض قیاس آرائیاں نہیں رہیں بلکہ زمینی حقائق، سفارتی سرگرمیوں اور فوجی نقل و حرکت اس بات کی تصدیق کر رہی ہیں کہ دنیا ایک اور تباہ کن جنگ کے دہانے پر آ کھڑی ہوئی ہے۔اگر آنے والے 24 گھنٹوں یا چند دنوں میں ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی عمل میں آتی ہے تو یہ حملہ محض ایک ملک پر نہیں ہوگا، بلکہ پورے خطے کے امن، عالمی معیشت اور بین الاقوامی نظام پر کاری ضرب ثابت ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شام، یمن، غزہ اور یوکرین جنگ کے عالمی اثرات سے سلگ رہا ہے، ایسے میں ایران جیسے بڑے اور بااثر ملک کے خلاف حملہ آگ میں تیل ڈالنے کے مترادف ہوگا۔
امریکی حکمتِ عملی میں جس “غیر متوقع پن” کو دانستہ طور پر نمایاں کیا جا رہا ہے، وہ درحقیقت عالمی قوانین اور سفارتی اقدار کی کھلی تضحیک ہے۔ طاقت کے نشے میں مبتلا عالمی قوتیں شاید یہ بھول چکی ہیں کہ غیر متوقع فیصلے ہمیشہ بے قابو نتائج کو جنم دیتے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے یہ دعوے کہ صدر ٹرمپ ایران میں مداخلت کا فیصلہ کر چکے ہیں، خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو ایک کھلی جنگ میں بدلنے کی بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔
یہ کوئی راز نہیں کہ ایران اور امریکا کے تعلقات دہائیوں سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں، مگر موجودہ صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ کسی ایک چنگاری سے پورا خطہ شعلہ فشاں ہو سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے یہ واضح اور دوٹوک پیغام کہ امریکی حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا، محض دھمکی نہیں بلکہ ایک مکمل جنگی حکمتِ عملی کا اظہار ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور دیگر ممالک میں موجود امریکی اڈے اس ممکنہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں، جس کے نتائج کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔
تشویش ناک امر یہ ہے کہ اسپین، اٹلی، پولینڈ، بھارت اور دیگر ممالک کی جانب سے اپنے شہریوں کو ایران فوری طور پر چھوڑنے کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔ یہ اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عالمی دارالحکومتوں میں خطرے کو محض افواہ نہیں سمجھا جا رہا۔ امریکی فوجیوں کا مشرقِ وسطیٰ میں ائیر بیسز سے انخلا اس تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ جنگی منظرنامہ تیار کیا جا چکا ہے اور صرف آخری حکم کا انتظار ہے۔
ہمیں یہ سوال خود سے ضرور پوچھنا چاہیے کہ ایسی جنگ کا اصل خمیازہ کون بھگتے گا؟ تاریخ کا ہر باب گواہ ہے کہ جنگوں میں فیصلے ایوانوں میں ہوتے ہیں مگر لاشیں گلیوں میں گرتی ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں، بچوں، خواتین اور ان بے گناہ انسانوں کا ہوتا ہے جن کا نہ ایٹمی پروگرام سے کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ عالمی سیاست کی بساط سے۔ ایران ہو یا خطے کا کوئی اور ملک، بم اور میزائل کبھی فوجی اہداف تک محدود نہیں رہتے۔
امریکا کی جانب سے انسانی حقوق کے نام پر دھمکیاں دینا اس وقت کھلے تضاد کا شکار نظر آتا ہے جب دنیا غزہ، عراق، افغانستان اور ویتنام کی تاریخ کو فراموش نہیں کر سکتی۔ اگر انسانی حقوق واقعی اتنے ہی اہم ہوتے تو طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتکاری، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کا سہارا لیا جاتا۔ مگر افسوس کہ طاقتور ممالک آج بھی بندوق کی زبان کو آخری دلیل سمجھتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل اور دیگر عالمی اداروں کی خاموشی بھی لمحۂ فکریہ ہے۔ کیا عالمی ادارے صرف کمزور ممالک پر قراردادیں منظور کرنے کے لیے رہ گئے ہیں؟ کیا بڑی طاقتوں کو کھلی جارحیت کی اجازت دینا ہی نیا عالمی اصول بن چکا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر دنیا کو ایک کے بعد ایک جنگ کے لیے خود کو تیار رکھنا ہوگا۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایران کوئی تنہا یا کمزور ملک نہیں۔ اس کے علاقائی اتحادی، اس کی عسکری صلاحیت اور اس کا جغرافیائی محلِ وقوع اس جنگ کو محدود نہیں رہنے دے گا۔ آبنائے ہرمز کی بندش، تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور عالمی معیشت کا ہل جانا وہ حقائق ہیں جو کسی بھی جنگ کی صورت میں ناگزیر ہو سکتے ہیں۔ اس کے اثرات یورپ سے لے کر ایشیا تک ہر فرد محسوس کرے گا۔
اس نازک موقع پر عالمی طاقتوں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں۔ طاقت کا استعمال وقتی برتری تو دلا سکتا ہے، مگر پائیدار امن کبھی نہیں دے سکتا۔ تاریخ بار بار یہ سبق دے چکی ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں بلکہ نئی نفرتوں، نئی مزاحمتوں اور نئی جنگوں کو جنم دیتی ہیں۔
اگر واقعی دنیا کو ایک اور خونریز بحران سے بچانا ہے تو امریکا، ایران اور ان کے اتحادیوں کو فوری طور پر مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔ سفارتکاری کو کمزوری نہیں بلکہ دانشمندی سمجھنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر آنے والے دن تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کے طور پر لکھے جائیں گے، اور انسانیت ایک بار پھر یہ سوال پوچھتی رہ جائے گی کہ آخر ہم نے ماضی سے کچھ سیکھا کیوں نہیں؟