اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کل اتوار کو پاکستان میں ضمنی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں، جس کے بعد انتخابی مہم مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔ اس دوران جلسے، جلوس، ریلیاں اور کارنر میٹنگ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ انتخابات پرامن اور شفاف طریقے سے ہوں۔
یہ ضمنی انتخابات قومی اسمبلی کی 6 اور پنجاب اسمبلی کی 7 نشستوں کے لیے ہو رہے ہیں، جو ملکی سیاست پر اہم اثر ڈال سکتے ہیں۔ وفاقی حکومت نے امن و امان کے لیے فوجی تعیناتی کی منظوری دی ہے، جس کا نوٹیفکیشن وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کر دیا گیا ہے۔ فوجی دستے 22 سے 24 نومبر تک انتخابی حلقوں میں موجود رہیں گے اور تھرڈ ٹیئر اور کوئیک ری ایکشن فورس کے طور پر کام کریں گے۔
لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، ڈی جی خان، مظفر گڑھ، سرگودھا، ہری پور اور میانوالی کے انتخابی حلقوں میں فوجی دستوں کو امن قائم رکھنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد انتخابی عمل کو پرامن اور بلا رکاوٹ برقرار رکھنا ہے۔
این اے 129 میں ن لیگ کے حافظ نعمان اور آزاد امیدوار ارسلان احمد کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ دونوں امیدواروں کے درمیان ووٹرز کو کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ اسی طرح این اے 18 ہری پور میں عمر ایوب کی اہلیہ اور مسلم ن لیگ کے بابر نواز کے درمیان بھی مقابلہ سخت ہونے کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات ملکی سیاست میں اہم تبدیلیوں اور مستقبل کے سیاسی رجحانات کی نشاندہی کریں گے۔ فوجی دستوں کی تعیناتی، انتخابی پابندیاں اور مضبوط سکیورٹی انتظامات اس بات کی ضمانت ہیں کہ انتخابات بلا رکاوٹ اور پرامن ماحول میں مکمل ہوں۔ اس موقع پر ووٹرز کی توجہ اور سیاسی جماعتوں کا حتمی کردار فیصلہ کن ثابت ہوگا۔