اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی وفاقی حکومت نے چار سال قبل “فریڈم کانوائے” احتجاج کے دوران ہنگامی قانون کے استعمال سے متعلق نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے پہلے عدالتوں نے قرار دیا تھا کہ اس قانون کا استعمال غیر معقول تھا اور اس کے نتیجے میں آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔
حکومت نے یہ قانون اس وقت نافذ کیا تھا تاکہ دارالحکومت اور اہم سرحدی مقامات پر ہونے والے احتجاج کو ختم کیا جا سکے۔ وزیر انصاف شان فریزر کی ترجمان لولا ڈینڈی بائیوا نے کہا کہ کینیڈا نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لے، کیونکہ ان احتجاجوں اور ناکہ بندیوں نے ملک بھر میں شدید خلل پیدا کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ عوامی نظم و نسق اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے مقابلے کے لیے اس کے پاس ضروری اختیارات موجود ہوں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ چونکہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، اس لیے مزید تبصرہ مناسب نہیں۔
دو ہزار چوبیس میں وفاقی عدالت نے اپنے فیصلے میں ہنگامی قانون کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے شہریوں کے آئینی حقوق متاثر ہوئے۔ اس کے بعد جنوری میں وفاقی اپیل عدالت نے بھی اسی فیصلے کو برقرار رکھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ حکومت کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے مناسب بنیاد موجود نہیں تھی کہ ملک بھر میں پیش آنے والے واقعات قومی سلامتی کے لیے خطرہ تھے یا قومی ہنگامی صورتحال کے زمرے میں آتے تھے، جبکہ یہ شرائط اس قانون کے نفاذ کے لیے لازمی ہیں۔
کینیڈین سول لبرٹیز ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہاورڈ سیپرز نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ اس کیس کی سماعت کرتی ہے تو وہ قانون کی بالادستی اور شہری آزادیوں کے حق میں اپنی کامیابی کا بھرپور دفاع کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ دو عدالتیں پہلے ہی قرار دے چکی ہیں کہ حکومت کا اقدام غیر قانونی تھا، اس کے باوجود حکومت ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے مختلف فیصلہ چاہتی ہے۔
جنوری اور فروری دو ہزار بائیس میں تقریباً تین ہفتوں تک اوٹاوا کے مرکزی علاقے میں مظاہرین موجود رہے، جن میں بڑی تعداد ٹرک ڈرائیورز کی تھی جنہوں نے پارلیمنٹ ہل کے اردگرد سڑکیں بند کر دی تھیں۔ اس صورتحال کے باعث کئی کاروبار عارضی طور پر بند ہو گئے اور شہریوں کو شور، آلودگی اور ہراسانی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ احتجاج بظاہر کووڈ پابندیوں کے خلاف تھا، لیکن اس میں ایسے افراد بھی شامل ہو گئے تھے جنہیں اُس وقت کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اور ان کی حکومت سے مختلف شکایات تھیں۔ اسی دوران ونڈسر اور کوٹس سمیت امریکہ سے ملنے والی اہم سرحدی گزرگاہوں پر بھی ٹرکوں نے راستے بند کر دیے تھے۔
چودہ فروری دو ہزار بائیس کو حکومت نے ہنگامی قانون نافذ کیا، جس کے تحت عارضی اقدامات کیے گئے جن میں عوامی اجتماعات پر پابندی، مخصوص مقامات کو محفوظ قرار دینا، بینکوں کو اثاثے منجمد کرنے کی ہدایت دینا اور مظاہرین کی معاونت پر پابندی شامل تھی۔
یہ پہلا موقع تھا کہ اس قانون کو استعمال کیا گیا، جو انیس سو اٹھاسی میں وار میژرز ایکٹ کی جگہ متعارف کرایا گیا تھا۔ اس قانون کے مطابق قومی ہنگامی صورتحال وہ ہوتی ہے جو وقتی ہو مگر اتنی سنگین ہو کہ شہریوں کی جان، صحت یا سلامتی کو خطرہ لاحق ہو اور جس سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومتیں ناکافی ہوں۔
اپیل عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حکومت کے پاس یہ یقین کرنے کی معقول بنیاد نہیں تھی کہ واقعی قومی ہنگامی صورتحال موجود ہے۔ ججوں کے مطابق قانون کی شرائط پوری نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کا اقدام غیر معقول تھا اور اس نے قانونی اختیار کی حدود سے تجاوز کیا۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کا مؤقف تھا کہ اس نے جو اقدامات کیے وہ محدود، متناسب اور وقتی تھے اور آئینی حقوق کے مطابق تھے۔