اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران کے وزیر انصاف نے حالیہ مظاہروں میں شریک افراد کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ
ملک میں ہونے والے واقعات کو محض احتجاج نہیں بلکہ مکمل خانہ جنگی تصور کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مظاہروں میں شامل ہر فرد کو مجرم سمجھا جائے گا اور گرفتار افراد کے ساتھ کسی قسم کی نرمی یا رعایت نہیں برتی جائے گی۔ایرانی وزیر انصاف کے مطابق ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین سزائیں دی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائے ہوئے ہے جو ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلانے کا سبب بنے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عدلیہ نے مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والے افراد کے تیز رفتار ٹرائلز کروانے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ مقدمات کا جلد فیصلہ کیا جا سکے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ان افراد پر سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں جن میں قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا، تشدد، اور ریاستی اداروں کے خلاف کارروائیاں شامل ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکومت نے ان مظاہروں کو داخلی جنگ قرار دیتے ہوئے سیکیورٹی اداروں کو سخت کارروائی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض گرفتار مظاہرین کو سزائے موت دیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس پر عالمی برادری اور امریکا کی جانب سے شدید تشویش اور انتباہ سامنے آیا ہے۔
عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرے اور سزاؤں کے معاملے میں شفاف اور منصفانہ عدالتی کارروائی کو یقینی بنائے۔ دوسری جانب ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ملک کے امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے مظاہروں کو **بدامنی اور دہشت گردی** سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست دشمن عناصر ان احتجاجی سرگرمیوں کے پیچھے کارفرما ہیں، جن کے خلاف سخت اور فیصلہ کن اقدامات جاری رہیں گے۔