اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) انیتا آنند نے ایران میں بڑھتے ہوئے تنازع پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس کے عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔کینیڈین وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں زور دیا کہ عام شہریوں کا تحفظ سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جاری جھڑپوں کے باعث انسانی بحران جنم لے سکتا ہے، جس سے ہزاروں افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کی طرف آنا چاہیے تاکہ خونریزی کو فوری طور پر روکا جا سکے۔
انیتا آنند نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جاری کشیدگی کے باعث اس گزرگاہ میں جہاز رانی متاثر ہو رہی ہے، جس سے نہ صرف تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر فوری جنگ بندی نہ کی گئی تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا بھر کی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ عالمی سپلائی چین میں خلل، توانائی کے بحران اور تجارتی سرگرمیوں میں سست روی جیسے مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب عالمی برادری بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ متعدد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے بھی ایران میں تشدد کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا رکھنے کی اپیل کی ہے، تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات عالمی سطح پر توانائی کے بحران اور معاشی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں، جس سے ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔