اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے، جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت آتی جا رہی ہے۔
مہنگائی اور معاشی بحران نے عوامی غم و غصہ کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ اب یہ مظاہرے ایک وسیع تحریک میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ اگرچہ یہ احتجاج ابتدائی طور پر اقتصادی مسائل سے شروع ہوئے، مگر اب یہ ایرانی حکومت کی پالیسیوں اور داخلی نظام کے خلاف ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔حکومت نے شروع میں مظاہرین پر قابو پانے کی کوشش کی، لیکن جب احتجاج میں شدت آئی تو سیکیورٹی فورسز اور عوام کے درمیان جھڑپیں خونریز ہو گئیں۔ مختلف شہروں میں شدید فسادات ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں 217 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ ان میں سے بیشتر افراد کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے، اور اس بات کا امکان ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ ہو۔
اگرچہ ایرانی حکام اس بات کی تردید کر رہے ہیں، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری اس تشدد کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مظاہرین نے سرکاری املاک کو نشانہ بنایا ہے، جس میں بینکوں، مساجد اور اسپتالوں کے ساتھ ساتھ فائر ٹرکوں تک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ احتجاج کی نوعیت اب صرف اقتصادی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی بھی ہو چکی ہے۔عالمی سطح پر اس بحران پر گہری تشویش پائی جاتی ہے، اور ایران کے حکام بار بار بیرونی مداخلت کا الزام عائد کرتے ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ امریکا ایرانی خون سے کھیل رہا ہے اور بیرونی طاقتیں ایرانی معاشرتی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایران کی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کو روکے، تاہم ان عالمی دباؤ کے باوجود ایرانی حکومت نے اپنے موقف میں کسی قسم کی لچک دکھانے سے انکار کیا ہے۔
اس وقت سوال یہ ہے کہ آیا ایرانی حکومت ان مظاہروں کا پرامن حل نکال پائے گی یا یہ مزید خونریزی اور سیاسی بحران کی طرف بڑھے گا؟ ایران کی داخلی سیاست میں جاری اس عدم استحکام کا اثر صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ پورے خطے میں اپنی گہرائی دکھا سکتا ہے۔ اس صورتحال میں عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایران کے عوام کے حقوق کا احترام کرے اور اس بحران کے حل میں کوئی تعمیری کردار ادا کرے۔