گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ عوام اور ڈنمارک کا حق ہے، برطانوی وزیراعظم

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) برطانیہ اور فرانس نے گرین لینڈ پر قبضے سے متعلق امریکی دھمکی کو سختی سے مسترد کر دیا ہے

واضح کیا ہے کہ کسی بھی خطے کے مستقبل کا فیصلہ طاقت کے زور پر نہیں بلکہ عوامی مرضی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔ دونوں یورپی طاقتوں نے اس معاملے پر ڈنمارک کے مؤقف کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر ایک نئی سفارتی کشیدگی کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے ایک باضابطہ بیان میں کہا کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق وہاں کے عوام اور ڈنمارک کی منتخب قیادت کو حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ اس حساس معاملے پر ڈنمارک کی وزیراعظم کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کرے گا جو عالمی قوانین یا ریاستی خودمختاری کے اصولوں کے خلاف ہو۔
سر کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی حالات میں کسی بھی ملک کی جانب سے دوسرے ملک یا خودمختار خطے پر قبضے کی دھمکی نہ صرف خطرناک ہے بلکہ یہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری تمام ریاستوں پر لازم ہے، چاہے وہ کتنی ہی بڑی طاقت کیوں نہ ہوں۔
فرانس
دوسری جانب فرانس نے بھی گرین لینڈ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی دھمکی کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ دنیا میں سرحدیں طاقت کے استعمال سے تبدیل نہیں کی جا سکتیں اور یہ اصول بین الاقوامی نظام کی بنیاد ہے۔
ترجمان نے کہا "گرین لینڈ، گرین لینڈ کے عوام اور ڈنمارک کے عوام کا ہے۔ یہ مکمل طور پر انہی کا حق ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کریں۔ کسی بیرونی طاقت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قومی سلامتی یا کسی اور بہانے سے کسی خطے پر قبضے کی بات کرے۔”انہوں نے مزید کہا کہ فرانس اقوام متحدہ کے چارٹر کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ایسے تمام اقدامات کی مذمت کرتا ہے جو اس کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہوں۔
وینزویلا کا حوالہ اور عالمی قوانین
فرانسیسی ترجمان نے اپنے بیان میں وینزویلا کی مثال بھی دی اور کہا کہ ماضی میں بعض تنازعات میں عالمی قوانین کا احترام نہیں کیا گیا، جس کے نتائج دنیا کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے فرانس کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی ہر صورت مذمت کرے، اور گرین لینڈ سے متعلق امریکی بیان بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی طاقتیں خود قوانین کی پامالی کریں گی تو دنیا میں کمزور ریاستوں کے لیے انصاف اور خودمختاری کا تصور بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا کو قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور فوجی اہمیت کے باعث گرین لینڈ امریکا کے لیے اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے۔
اگرچہ یہ بیان ماضی میں بھی عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بن چکا ہے، تاہم حالیہ دنوں میں اس حوالے سے دوبارہ بیانات سامنے آنے کے بعد یورپی ممالک نے کھل کر ردعمل دیا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا کی جانب سے گرین لینڈ میں دلچسپی کی بنیادی وجہ وہاں موجود قدرتی وسائل، معدنی ذخائر، اور آرکٹک میں اس کی جغرافیائی پوزیشن ہے، جو روس اور چین جیسے ممالک کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے تناظر میں مزید اہم ہو گئی ہے۔
ڈنمارک، جس کے زیرِ انتظام گرین لینڈ ایک خودمختار علاقہ ہے، پہلے ہی اس بات کو واضح کر چکا ہے کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں اور نہ ہی اس کے مستقبل کا فیصلہ کسی بیرونی دباؤ کے تحت کیا جا سکتا ہے۔ ڈنمارک کی وزیراعظم نے بھی کہا ہے کہ گرین لینڈ کے عوام کو مکمل خودمختاری حاصل ہے اور کسی بھی فیصلے میں ان کی رائے کو اولیت دی جائے گی۔ڈنمارک کی حکومت نے برطانیہ اور فرانس کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی اتحاد بین الاقوامی قوانین کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
امریکی بیانات کے بعد یورپی یونین کے مختلف حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بڑی طاقتیں قومی سلامتی کے نام پر علاقائی خودمختاری کو چیلنج کریں گی تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گا، جس سے دنیا کے دیگر تنازعات بھی مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
یورپی تجزیہ کاروں کے مطابق گرین لینڈ کا معاملہ صرف ایک جزیرے تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ کی نئی جنگ کی علامت بنتا جا رہا ہے، خاص طور پر آرکٹک خطے میں۔
برطانیہ اور فرانس دونوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے بیانات اور اقدامات کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں جو اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کے منافی ہوں۔ان ممالک کا کہنا ہے کہ اگر دنیا کو ایک پرامن اور منصفانہ عالمی نظام کی طرف لے جانا ہے تو طاقت کی بجائے قانون اور سفارت کاری کو ترجیح دینا ہوگی۔

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں