اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ہونے والا دھماکہ، جس میں 9 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوئے، نہ صرف ایک المناک سانحہ ہے۔
بلکہ یہ بھارت کے داخلی امن، سکیورٹی انتظامات اور انٹیلی جنس نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کے دارالحکومت میں اس نوعیت کا دھماکہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت کے اندرونی سکیورٹی نظام میں سنگین کمزوریاں موجود ہیں۔
دہماکے کی جگہ لال قلعہ نہ صرف تاریخی اہمیت کی حامل ہے بلکہ یہ مقام بھارت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے قریب ایسے دھماکے کا ہونا ظاہر کرتا ہے کہ حملہ آور نہ صرف جرأت مند تھے بلکہ انہوں نے بھارتی ریاست کی کمزوریوں کو بخوبی پہچان رکھا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دھماکہ ایک گاڑی میں ہوا اور کئی گاڑیاں اور رکشے آگ کی لپیٹ میں آگئے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دھماکے کی منصوبہ بندی منظم انداز میں کی گئی تھی۔
یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب بھارت اپنے آپ کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے موقع پر دہلی جیسے شہر میں دہشتگردی یا تخریب کاری کا واقعہ دنیا بھر میں بھارت کی سکیورٹی پالیسیوں پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔
مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ بھارتی حکومت اور سکیورٹی ادارے اکثر ایسے واقعات کے فوراً بعد بغیر تحقیق پاکستان یا دیگر غیر ملکی عناصر کو موردِ الزام ٹھہرا دیتے ہیں ۔ اس روش نے بھارت کے اندرونی مسائل پر پردہ ڈالنے کی ایک روایت قائم کر دی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے اندر فرقہ وارانہ منافرت، شدت پسندی اور سیاسی انتہا پسندی مسلسل بڑھ رہی ہے، جو خود بھارت کی داخلی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارتی حکومت الزام تراشی کی پالیسی ترک کرے اور سنجیدگی سے اپنے سکیورٹی اور انٹیلی جنس نظام میں اصلاحات لائے۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کسی بھی ریاست کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے، اور دہلی جیسے حساس شہر میں ایسے واقعات کا رونما ہونا ریاستی ناکامی کے مترادف ہے۔
آخر میں، یہ واقعہ بھارت کے حکمران طبقے کے لیے ایک انتباہ ہے کہ اگر وہ داخلی امن اور عوامی سلامتی کے مسائل کو سیاسی فائدے کے بجائے قومی سلامتی کے تناظر میں حل کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو مستقبل میں اس سے بھی بڑے سانحات جنم لے سکتے ہیں۔ امن کے نعرے صرف تقریروں سے نہیں بلکہ مؤثر سکیورٹی پالیسی، انصاف اور شفاف تحقیقات سے قائم کیے جاتے ہیں — اور یہی وہ چیز ہے جس کی آج کے بھارت کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔