اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) نیگارا فالس کے تاریخی تفریحی پارک *میری لینڈ* کی بندش نے مقامی برادری میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے۔
چھ دہائیوں تک یہ پارک سیاحوں، خاندانوں اور بچوں کے لیے خوشیوں کی علامت رہا۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، جانوروں کی فلاح، دیکھ بھال اور قید میں رکھے جانے سے متعلق عالمی شعور نے اس ماڈل کو غیر اخلاقی قرار دے دیا۔ اب جب کہ میری لینڈ کا مستقبل غیر یقینی ہے، نیگارا کے شہریوں نے ایک نئی سمت کا تعین کیا ہے — ایک ایسا تفریحی پارک جو خوشی، تعلیم اور جدت کا امتزاج ہو، مگر جانوروں کے بغیر۔
میری لینڈ کی ملکیت ایک ٹرسٹ کے سپرد ہے، اور اس کی 323 ہیکٹر پر محیط زمین سینکڑوں ملین ڈالر مالیت رکھتی ہے۔ یہ خطہ صرف نیگارا فالس کے سیاحتی مرکز کے طور پر نہیں بلکہ مقامی معیشت کے لیے بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے میں، شہریوں کی یہ خواہش کہ یہاں ایک نیا، جدید، مگر اخلاقی تفریحی پارک تعمیر ہو، نا صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ دورِ حاضر کی سوچ کے عین مطابق بھی ہے۔
نوجوان ڈومینک کلف کی طرح کئی شہریوں نے کہا ہے کہ انہیں میری لینڈ سے خوبصورت یادیں وابستہ ہیں، مگر اب وقت بدل چکا ہے۔ اب تفریح کا مطلب صرف *تماشہ* نہیں بلکہ *تجربہ* ہونا چاہیے۔ ایک ایسا تجربہ جو جانوروں کے استحصال کے بغیر، جدید ٹیکنالوجی، اینیمیٹرونکس، ورچوئل ریئلٹی اور تعلیمی مواد کے ذریعے حاصل کیا جا سکے۔
یہ خیال نہ صرف اخلاقی طور پر درست ہے بلکہ معاشی لحاظ سے بھی دیرپا ہے۔ اگر میری لینڈ کی جگہ ایک ایسا تفریحی پارک قائم کیا جائے جو بچوں اور خاندانوں کو محفوظ، سائنسی اور تعلیمی ماحول فراہم کرے، تو نیگارا فالس ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔
میئر جِم دیوڈیٹی سمیت کئی مقامی رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ شہر کو ایک ’’ورلڈ کلاس‘‘ تفریحی مقام کی ضرورت ہے — مگر وہ مقام انسانوں کی خوشی پر مبنی ہو، جانوروں کی قید پر نہیں۔
میری لینڈ کے باب کا اختتام دراصل ایک نئے عہد کا آغاز ہے۔ ایسا عہد جس میں انسان فطرت کا مالک نہیں بلکہ محافظ بن کر ابھرے گا۔ اگر نیگارا فالس نے یہ راہ اختیار کر لی، تو یہ نہ صرف اپنے ماضی کا کفارہ ادا کرے گا بلکہ دنیا کے لیے ایک روشن مثال بھی قائم کرے گا۔